شاعری

جب بھی یہ دل اداس ہوتا ہے

جب بھی یہ دل اداس ہوتا ہے جانے کون آس پاس ہوتا ہے آنکھیں پہچانتی ہیں آنکھوں کو درد چہرہ شناس ہوتا ہے گو برستی نہیں سدا آنکھیں ابر تو بارہ ماس ہوتا ہے چھال پیڑوں کی سخت ہے لیکن نیچے ناخن کے ماس ہوتا ہے زخم کہتے ہیں دل کا گہنہ ہے درد دل کا لباس ہوتا ہے ڈس ہی لیتا ہے سب کو عشق ...

مزید پڑھیے

وہ خط کے پرزے اڑا رہا تھا

وہ خط کے پرزے اڑا رہا تھا ہواؤں کا رخ دکھا رہا تھا بتاؤں کیسے وہ بہتا دریا جب آ رہا تھا تو جا رہا تھا کچھ اور بھی ہو گیا نمایاں میں اپنا لکھا مٹا رہا تھا دھواں دھواں ہو گئی تھیں آنکھیں چراغ کو جب بجھا رہا تھا منڈیر سے جھک کے چاند کل بھی پڑوسیوں کو جگا رہا تھا اسی کا ایماں بدل ...

مزید پڑھیے

گرم لاشیں گریں فصیلوں سے

گرم لاشیں گریں فصیلوں سے آسماں بھر گیا ہے چیلوں سے سولی چڑھنے لگی ہے خاموشی لوگ آئے ہیں سن کے میلوں سے کان میں ایسے اتری سرگوشی برف پھسلی ہو جیسے ٹیلوں سے گونج کر ایسے لوٹتی ہے صدا کوئی پوچھے ہزاروں میلوں سے پیاس بھرتی رہی مرے اندر آنکھ ہٹتی نہیں تھی جھیلوں سے لوگ کندھے بدل ...

مزید پڑھیے

کھلی کتاب کے صفحے الٹتے رہتے ہیں

کھلی کتاب کے صفحے الٹتے رہتے ہیں ہوا چلے نہ چلے دن پلٹتے رہتے ہیں بس ایک وحشت منزل ہے اور کچھ بھی نہیں کہ چند سیڑھیاں چڑھتے اترتے رہتے ہیں مجھے تو روز کسوٹی پہ درد کستا ہے کہ جاں سے جسم کے بخیے ادھڑتے رہتے ہیں کبھی رکا نہیں کوئی مقام صحرا میں کہ ٹیلے پاؤں تلے سے سرکتے رہتے ...

مزید پڑھیے

مجھے اندھیرے میں بے شک بٹھا دیا ہوتا

مجھے اندھیرے میں بے شک بٹھا دیا ہوتا مگر چراغ کی صورت جلا دیا ہوتا نہ روشنی کوئی آتی مرے تعاقب میں جو اپنے آپ کو میں نے بجھا دیا ہوتا یہ درد جسم کے یارب بہت شدید لگے مجھے صلیب پہ دو پل سلا دیا ہوتا یہ شکر ہے کہ مرے پاس تیرا غم تو رہا وگرنہ زندگی نے تو رلا دیا ہوتا

مزید پڑھیے

ذکر ہوتا ہے جہاں بھی مرے افسانے کا

ذکر ہوتا ہے جہاں بھی مرے افسانے کا ایک دروازہ سا کھلتا ہے کتب خانے کا ایک سناٹا دبے پاؤں گیا ہو جیسے دل سے اک خوف سا گزرا ہے بچھڑ جانے کا بلبلہ پھر سے چلا پانی میں غوطے کھانے نہ سمجھنے کا اسے وقت نہ سمجھانے کا میں نے الفاظ تو بیجوں کی طرح چھانٹ دیئے ایسا میٹھا ترا انداز تھا ...

مزید پڑھیے

دکھائی دیتے ہیں دھند میں جیسے سائے کوئی

دکھائی دیتے ہیں دھند میں جیسے سائے کوئی مگر بلانے سے وقت لوٹے نہ آئے کوئی مرے محلے کا آسماں سونا ہو گیا ہے بلندیوں پہ اب آ کے پیچے لڑائے کوئی وہ زرد پتے جو پیڑ سے ٹوٹ کر گرے تھے کہاں گئے بہتے پانیوں میں بلائے کوئی ضعیف برگد کے ہاتھ میں رعشہ آ گیا ہے جٹائیں آنکھوں پہ گر رہی ہیں ...

مزید پڑھیے

پیڑ کے پتوں میں ہلچل ہے خبردار سے ہیں

پیڑ کے پتوں میں ہلچل ہے خبردار سے ہیں شام سے تیز ہوا چلنے کے آثار سے ہیں ناخدا دیکھ رہا ہے کہ میں گرداب میں ہوں اور جو پل پہ کھڑے لوگ ہیں اخبار سے ہیں چڑھتے سیلاب میں ساحل نے تو منہ ڈھانپ لیا لوگ پانی کا کفن لینے کو تیار سے ہیں کل تواریخ میں دفنائے گئے تھے جو لوگ ان کے سائے ابھی ...

مزید پڑھیے

ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتے

ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتے وقت کی شاخ سے لمحے نہیں توڑا کرتے جس کی آواز میں سلوٹ ہو نگاہوں میں شکن ایسی تصویر کے ٹکڑے نہیں جوڑا کرتے لگ کے ساحل سے جو بہتا ہے اسے بہنے دو ایسے دریا کا کبھی رخ نہیں موڑا کرتے جاگنے پر بھی نہیں آنکھ سے گرتیں کرچیں اس طرح خوابوں سے ...

مزید پڑھیے

تنکا تنکا کانٹے توڑے ساری رات کٹائی کی

تنکا تنکا کانٹے توڑے ساری رات کٹائی کی کیوں اتنی لمبی ہوتی ہے چاندنی رات جدائی کی نیند میں کوئی اپنے آپ سے باتیں کرتا رہتا ہے کال کنوئیں میں گونجتی ہے آواز کسی سودائی کی سینے میں دل کی آہٹ جیسے کوئی جاسوس چلے ہر سائے کا پیچھا کرنا عادت ہے ہرجائی کی آنکھوں اور کانوں میں کچھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4078 سے 5858