شاعری

سدھارتھ کی ایک رات

کوئی پتا بھی نہیں ہلتا، نہ پردوں میں ہے جنبش پھر بھی کانوں میں بہت تیز ہواؤں کی صدا ہے کتنے اونچے ہیں یہ محراب محل کے اور محرابوں سے اونچا وہ ستاروں سے بھرا تھال فلک کا کتنا چھوٹا ہے مرا قد۔۔۔ فرش پر جیسے کسی حرف سے اک نقطہ گرا ہو سینکڑوں سمتوں میں بھٹکا ہوا من ٹھہرے ذرا دل ...

مزید پڑھیے

اسکیچ

یاد ہے اک دن میری میز پہ بیٹھے بیٹھے سگریٹ کی ڈبیہ پر تم نے ایک اسکیچ بنایا تھا آ کر دیکھو اس پودے پر پھول آیا ہے!

مزید پڑھیے

لباس

میرے کپڑوں میں ٹنگا ہے تیرا خوش رنگ لباس! گھر پہ دھوتا ہوں ہر بار اسے اور سکھا کے پھر سے اپنے ہاتھوں سے اسے استری کرتا ہوں مگر استری کرنے سے جاتی نہیں شکنیں اس کی اور دھونے سے گلے شکوؤں کے چکتے نہیں مٹتے! زندگی کس قدر آساں ہوتی رشتے گر ہوتے لباس اور بدل لیتے قمیضوں کی طرح!

مزید پڑھیے

روح دیکھی ہے کبھی!

روح دیکھی ہے؟ کبھی روح کو محسوس کیا ہے؟ جاگتے جیتے ہوئے دودھیا کہرے سے لپٹ کر سانس لیتے ہوئے اس کہرے کو محسوس کیا ہے؟ یا شکارے میں کسی جھیل پہ جب رات بسر ہو اور پانی کے چھپاکوں میں بجا کرتی ہیں ٹلیاں سبکیاں لیتی ہواؤں کے بھی بین سنے ہیں؟ چودھویں رات کے برفاب سے اک چاند کو ...

مزید پڑھیے

ہوا کے سینگ نہ پکڑو کھدیڑ دیتی ہے

ہوا کے سینگ نہ پکڑو کھدیڑ دیتی ہے زمیں سے پیڑوں کے ٹانکے ادھیڑ دیتی ہے میں چپ کراتا ہوں ہر شب امڈتی بارش کو مگر یہ روز گئی بات چھیڑ دیتی ہے زمیں سا دوسرا کوئی سخی کہاں ہوگا ذرا سا بیج اٹھا لے تو پیڑ دیتی ہے رندھے گلے کی دعاؤں سے بھی نہیں کھلتا در حیات جسے موت بھیڑ دیتی ہے

مزید پڑھیے

خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میں

خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میں ایک پرانا خط کھولا انجانے میں شام کے سائے بالشتوں سے ناپے ہیں چاند نے کتنی دیر لگا دی آنے میں رات گزرتے شاید تھوڑا وقت لگے دھوپ انڈیلو تھوڑی سی پیمانے میں جانے کس کا ذکر ہے اس افسانے میں درد مزے لیتا ہے جو دہرانے میں دل پر دستک دینے کون آ نکلا ...

مزید پڑھیے

سہما سہما ڈرا سا رہتا ہے

سہما سہما ڈرا سا رہتا ہے جانے کیوں جی بھرا سا رہتا ہے کائی سی جم گئی ہے آنکھوں پر سارا منظر ہرا سا رہتا ہے ایک پل دیکھ لوں تو اٹھتا ہوں جل گیا گھر ذرا سا رہتا ہے سر میں جنبش خیال کی بھی نہیں زانوؤں پر دھرا سا رہتا ہے

مزید پڑھیے

جب بھی آنکھوں میں اشک بھر آئے

جب بھی آنکھوں میں اشک بھر آئے لوگ کچھ ڈوبتے نظر آئے اپنا محور بدل چکی تھی زمیں ہم خلا سے جو لوٹ کر آئے چاند جتنے بھی گم ہوئے شب کے سب کے الزام میرے سر آئے چند لمحے جو لوٹ کر آئے رات کے آخری پہر آئے ایک گولی گئی تھی سوئے فلک اک پرندے کے بال و پر آئے کچھ چراغوں کی سانس ٹوٹ گئی کچھ ...

مزید پڑھیے

ایک پرواز دکھائی دی ہے

ایک پرواز دکھائی دی ہے تیری آواز سنائی دی ہے صرف اک صفحہ پلٹ کر اس نے ساری باتوں کی صفائی دی ہے پھر وہیں لوٹ کے جانا ہوگا یار نے کیسی رہائی دی ہے جس کی آنکھوں میں کٹی تھیں صدیاں اس نے صدیوں کی جدائی دی ہے زندگی پر بھی کوئی زور نہیں دل نے ہر چیز پرائی دی ہے آگ میں کیا کیا جلا ہے ...

مزید پڑھیے

کہیں تو گرد اڑے یا کہیں غبار دکھے

کہیں تو گرد اڑے یا کہیں غبار دکھے کہیں سے آتا ہوا کوئی شہسوار دکھے خفا تھی شاخ سے شاید کہ جب ہوا گزری زمیں پہ گرتے ہوئے پھول بے شمار دکھے رواں ہیں پھر بھی رکے ہیں وہیں پہ صدیوں سے بڑے اداس لگے جب بھی آبشار دکھے کبھی تو چونک کے دیکھے کوئی ہماری طرف کسی کی آنکھ میں ہم کو بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4077 سے 5858