سدھارتھ کی ایک رات
کوئی پتا بھی نہیں ہلتا، نہ پردوں میں ہے جنبش پھر بھی کانوں میں بہت تیز ہواؤں کی صدا ہے کتنے اونچے ہیں یہ محراب محل کے اور محرابوں سے اونچا وہ ستاروں سے بھرا تھال فلک کا کتنا چھوٹا ہے مرا قد۔۔۔ فرش پر جیسے کسی حرف سے اک نقطہ گرا ہو سینکڑوں سمتوں میں بھٹکا ہوا من ٹھہرے ذرا دل ...