شاعری

سفر ہے ختم مگر بے گھری نہ جائے گی

سفر ہے ختم مگر بے گھری نہ جائے گی ہمارے گھر سے یہ پیغمبری نہ جائے گی نظر گنوا بھی چکے تجھ کو دیکھنے والے افق افق تری جلوہ‌ گری نہ جائے گی میں اپنے خواب تراشوں انہیں بکھیروں بھی مری سرشت سے یہ آذری نہ جائے گی حسیں ہے شیشہ و آہن کا امتزاج مگر تری سیاست آہن گری نہ جائے گی میں سب ...

مزید پڑھیے

ہر آن یاس بڑھنی ہر دم امید گھٹنی

ہر آن یاس بڑھنی ہر دم امید گھٹنی دن حشر کا ہے اب تو فرقت کی رات کٹنی پو پھاٹنا نہیں یہ مجھ سینہ چاک کے ہے ہر صبح بار غم سے چھاتی فلک کی پھٹنی کوچے میں اس کے باقی مجھ خاکسار پر اب یا آسماں ہے گرنا یا ہے زمین پھٹنی مژگاں کی برچھیوں نے دل کو تو چھان مارا اب بوٹیاں ہیں باقی ان پر جگر ...

مزید پڑھیے

دیکھا جو کچھ جہاں میں کوئی دم یہ سب نہیں

دیکھا جو کچھ جہاں میں کوئی دم یہ سب نہیں ٹک آنکھ موندتے ہی تم اور ہم یہ سب نہیں تھوڑی سی زیست ہے جو خوشی سے نبھے تو خیر ورنہ نشاط و خرمی و غم یہ سب نہیں باغ و بہار و جوش گل و خندۂ صبوح صوت ہزار و گریۂ شبنم یہ سب نہیں دنیا و دین دیدۂ دل صبر اور قرار تو ہی اگر نہیں تو اک عالم یہ سب ...

مزید پڑھیے

اے ہم نفس اس زلف کے افسانے کو مت چھیڑ

اے ہم نفس اس زلف کے افسانے کو مت چھیڑ بس سلسلہ جنباں نہ ہو دیوانے کو مت چھیڑ جس رنگ سے ہے دل میں مرے عشق رخ یار ناصح نہ ہو دیوانہ پری خانے کو مت چھیڑ وہ شمع مجالس تو ہے فانوس میں روشن اے عشق تو مجھ سوختہ پروانے کو مت چھیڑ تو آپ ہے پیماں شکن اس دور میں ساقی کہتا ہے مجھے بزم میں ...

مزید پڑھیے

رائیگاں اوقات کھو کر حیف کھانا ہے عبث

رائیگاں اوقات کھو کر حیف کھانا ہے عبث خوب رویوں سے جہاں کے دل لگانا ہے عبث کارگر ہوگا ترا افسوں یہ باور ہے تجھے اس پری پر اے دل وحشی دوانا ہے عبث جیتے پھر آنے کی پہلے رکھ توقع دل سے دور ورنہ کوچے میں ستم گاروں کے جانا ہے عبث خاک ہو کر ایک صورت ہے گدا‌ و شاہ کی گر موافق تجھ سے اے ...

مزید پڑھیے

کسی میں تاب نہ تھی تہمتیں اٹھانے کی

کسی میں تاب نہ تھی تہمتیں اٹھانے کی جلے چراغ تو پلکیں جھکیں زمانے کی جسے بھی دیکھیے اپنی انا کا مارا ہے امید کس سے رکھے کوئی داد پانے کی تری گلی میں بھی دار و رسن کا چرچا ہے بدل گئی ہے ہوا کس قدر زمانے کی چراغ کشتہ کی مانند نوحہ خواں یہ لوگ بنے ہیں سرخئ آغاز کس فسانے کی لرزتے ...

مزید پڑھیے

اشک باری کا مری آنکھوں نے یہ باندھا ہے جھاڑ

اشک باری کا مری آنکھوں نے یہ باندھا ہے جھاڑ ڈوبتے دکھلائی دیں ہیں تا کمر سارے پہاڑ غیر کو تو نے اشارت کی چرا کر ہم سے آنکھ ہم بھی اک عیار ہیں پیارے گئے فی الفور تاڑ مجھ کو کیا بے خود کیا ساقی کی چشم مست نے اک نگاہ تند سے اس نے صفیں ڈالیں پچھاڑ ان کو پھر شور قیامت بھی اٹھا سکتا ...

مزید پڑھیے

دیکھتا کچھ ہوں دھیان میں کچھ ہے

دیکھتا کچھ ہوں دھیان میں کچھ ہے ہے یقیں کچھ گمان میں کچھ ہے صنم اپنے کو ہم خدا جو کہیں کب قصور اس کی شان میں کچھ ہے کچھ نہ دیکھا کسی مکان میں ہم کہتے ہیں لا مکان میں کچھ ہے تشنۂ خوں ہیں لعل لب تیرے سرخیٔ رنگ پان میں کچھ ہے تیرے دیدار کی ہوس کے سوا دیکھ تو میری جان میں کچھ ہے تو ...

مزید پڑھیے

محبت سے طریق دوستی سے چاہ سے مانگو

محبت سے طریق دوستی سے چاہ سے مانگو مرے صاحب کسی سے دل جو مانگو راہ سے مانگو گئے فرہاد و قیس ان کا نظیر اک میں جہاں میں ہوں عزیزاں خیر باقی ماندگاں اللہ سے مانگو خط اس کافر نے قتل عام کا فرماں نکالا ہے مسلمانو پناہ اس آفت ناگاہ سے مانگو اگر ہے عزم روم و زنگ کی تسخیر کا بارے کمک ...

مزید پڑھیے

ہماری چاہ صاحب جانتے ہیں

ہماری چاہ صاحب جانتے ہیں کہوں کیا آہ صاحب جانتے ہیں جلانا عاشقوں کا جان اے جاں قیامت واہ صاحب جانتے ہیں بھلا دینے کی زلفوں میں دلوں کو نرالی راہ صاحب جانتے ہیں تمہاری مست آنکھوں سے ہے بے خود جسے آگاہ صاحب جانتے ہیں تمہارے مکھڑے کی ذرہ جھلک ہے کہ جس کو ماہ صاحب جانتے ہیں ملو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 407 سے 5858