دنیا نے بس تھکا ہی دیا کام کم ہوئے
دنیا نے بس تھکا ہی دیا کام کم ہوئے تیری گلی میں آئے تو کچھ تازہ دم ہوئے عقدہ کھلا تو درد کے رشتے بہم ہوئے دامن کے ساتھ اب کے گریباں بھی نم ہوئے جب سے اسیر سلسلۂ بیش و کم ہوئے ہم کو صلیب اپنے ہی نقش قدم ہوئے بدلی ذرا جو طرز خرام ستار گاں نقطوں میں آنکھ بیچ صحیفے رقم ہوئے تھے ...