شاعری

یہ ہجوم رسم و رہ دنیا کی پابندی بھی ہے

یہ ہجوم رسم و رہ دنیا کی پابندی بھی ہے غالباً کچھ شیخ کو زعم خرد مندی بھی ہے بجلیوں سے سازشیں بھی کر رہا ہے باغباں ہم چمن والوں کو حکم آشیاں بندی بھی ہے حضرت دل کو خدا رکھے وہی ہیں شورشیں درد محرومی بھی سوز آرزو مندی بھی ہے مے کدے کی اصطلاحوں میں بہت کچھ کہہ گئے ورنہ اس محفل میں ...

مزید پڑھیے

جنوں خود نما خود نگر بھی نہیں

جنوں خود نما خود نگر بھی نہیں خرد کی طرح کم نظر بھی نہیں کسی راہزن کا خطر بھی نہیں کہ دامن میں گرد سفر بھی نہیں غم زندگی اک مسلسل عذاب غم زندگی سے مفر بھی نہیں نظر معتبر ہے خبر معتبر مگر اس قدر معتبر بھی نہیں

مزید پڑھیے

منزلوں سے بیگانہ آج بھی سفر میرا

منزلوں سے بیگانہ آج بھی سفر میرا رات بے سحر میری درد بے اثر میرا گمرہی کا عالم ہے کس کو ہم سفر کہیے تھک کے چھوڑ بیٹھی ہے ساتھ رہ گزر میرا وہ فروغ خلوت بھی انجمن سراپا بھی بھر گیا ہے پھولوں سے دامن نظر میرا اب ترے تغافل سے اور کیا طلب کیجے شوق نا رسا میرا عشق معتبر میرا دور کم ...

مزید پڑھیے

دل وہ کافر کہ صدا عیش کا ساماں مانگے

دل وہ کافر کہ صدا عیش کا ساماں مانگے زخم پا جائے تو کمبخت نمکداں مانگے لطف آئے جو کوئی سوختہ سامان بہار خالق رنگ سے پھر شعلۂ عریاں مانگے حسرت دید سر بام تماشہ چاہے عشق بیتاب سر طور چراغاں مانگے رات زلفوں سے کرے شوخ اندھیروں کا سوال روشنی لوح جبیں سے مہ تاباں مانگے اک چراغ ...

مزید پڑھیے

وہ روشنی کہ بقید سحر نہیں اے دوست

وہ روشنی کہ بقید سحر نہیں اے دوست ترا جمال ہے میری نظر نہیں اے دوست ترے بغیر وہ شام و سحر نہیں اے دوست کوئی چراغ سر رہ گزر نہیں اے دوست بہانا ڈھونڈھ لیا تجھ سے بات کرنے کا کچھ اور مقصد عرض ہنر نہیں اے دوست شب فراق یہ محویتوں کا عالم ہے کسی کی ہائے کسی کو خبر نہیں اے دوست مہ و ...

مزید پڑھیے

شباب حسن ہے برق و شرر کی منزل ہے

شباب حسن ہے برق و شرر کی منزل ہے یہ آزمائش قلب و نظر کی منزل ہے سواد شمس و قمر بھی بشر کی منزل ہے ابھی تو پرورش بال و پر کی منزل ہے یہ مے کدہ ہے کلیسا و خانقاہ نہیں عروج فکر و فروغ نظر کی منزل ہے ہمیں تو راس ہی آئی فغاں کی بے اثری مگر بتاؤ تو کوئی اثر کی منزل ہے وہ رہبرئ جناب خضر ...

مزید پڑھیے

زندگی دل پہ عجب سحر سا کرتی جائے

زندگی دل پہ عجب سحر سا کرتی جائے اک جگہ ٹھہری لگے اور گزرتی جائے آنسوؤں سے کوئی آواز کو نسبت نہ سہی بھیگتی جائے تو کچھ اور نکھرتی جائے دیکھتے دیکھتے دھندلا گئے منظر سارے تیری زلفوں کی طرح شام بکھرتی جائے بات کا راز کھلے بات کا انداز کھلے تیرے ہونٹوں سے چلے دل میں اترتی ...

مزید پڑھیے

کمال بے خبری کو خبر سمجھتے ہیں

کمال بے خبری کو خبر سمجھتے ہیں تری نگاہ کو جو معتبر سمجھتے ہیں فروغ طور کی یوں تو ہزار تاویلیں ہم اک چراغ سر رہ گزر سمجھتے ہیں لب نگار کو زحمت نہ دو خدا کے لیے ہم اہل شوق زبان نظر سمجھتے ہیں جناب شیخ سمجھتے ہیں خوب رندوں کو جناب شیخ کو ہم بھی مگر سمجھتے ہیں وہ خاک سمجھیں گے راز ...

مزید پڑھیے

کسی کے ہاتھ میں جام شراب آیا ہے

کسی کے ہاتھ میں جام شراب آیا ہے کہ ماہتاب تہ آفتاب آیا ہے نگاہ شوق مبارک نشاط گل چینی رخ نگار پہ رنگ عتاب آیا ہے سزائے زہد شب ماہتاب کیا کم تھی کہ روز ابر بھی بن کے عذاب آیا ہے ضیائے حسن و فروغ حیا کی آمیزش شفق کی گود میں یا آفتاب آیا ہے تری نگاہ کی ہلکی سی ایک جنبش سے جہان شوق ...

مزید پڑھیے

چھٹے غبار نظر بام طور آ جائے

چھٹے غبار نظر بام طور آ جائے پیو شراب کہ چہرے پہ نور آ جائے اٹھاؤ جام بنام حیات بادہ کشو نظارے جھومیں نظر کو سرور آ جائے شراب خانے میں کوثر کا ذکر کیا کہئے کسی کی عقل میں جیسے فتور آ جائے مقام دار سے گزرو تو زندگی پاؤ پیو جو زہر ہلاہل سرور آ جائے نگاہ تیز نفس گرم آرزو بیباک جسے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4068 سے 5858