شاعری

بم دھماکہ

سرما کی بے رحم فضا میں سرخ لہو نے بہتے بہتے حیرانی سے تپتی ہوئی اس خاک کو دیکھا ابھی تو میں ان نیلی گرم رگوں میں کیسے دوڑ رہا تھا بجھتی ہوئی اک سانس کی لو نے اپنے ننھے جیون کی اس آخری تیز کٹیلی ہچکی کو جھٹکا دو خالی نظریں دور دھویں کے پار کہیں کچھ ڈھونڈ رہی تھیں ابھی ابھی تو نیلا ...

مزید پڑھیے

وہم نہیں ہے

ڈھلتے ڈھلتے ایک روپہلے منظر نے کچھ سوچا پلٹا پگڈنڈی سنسان پڑی تھی مٹیالی اور سرد ہوائیں ہاتھ جھلاتی شاخیں روکھے سوکھے پتے تنہا پیڑ پہ بیٹھے بیٹھے چٹخ رہے تھے ٹوٹ رہے تھے خاک اڑاتی پگڈنڈی پر شام سمے کا دھندلا بادل جھکنے لگا تھا ڈھلتے ڈھلتے ایک روپہلے منظر کی ان بھید بھری آنکھوں ...

مزید پڑھیے

میں نہیں ہوں مگر

میں نہیں ہوں مگر اب بھی کھلتے ہیں کھڑکی کے دائیں طرف پھول بل کھائی الجھی ہوئی بیل پر زندگی کے کسی فیصلے کی گھڑی سے الجھتے ہوئے میں کھرچتا رہا تھا یہ روغن جمی ہے یہاں آج تک ننھے دھبے میں اک بے کلی میرے احساس کی اور قالین پر میری پیالی سے چھلکی ہوئی چائے کا اک پرانا نشاں اب بھی تکتا ...

مزید پڑھیے

دور طوفاں میں بھی جی لیتے ہیں جینے والے (ردیف .. ح)

دور طوفاں میں بھی جی لیتے ہیں جینے والے دور ساحل سے کسی موج‌‌ گریزاں کی طرح دل کی وادی میں ترا درد برستا ہی رہا ابر نیساں کی طرح ابر بہاراں کی طرح فاصلے وقت میں تبدیل ہوئے جاتے ہیں زندگی رقص میں ہے گردش دوراں کی طرح دل کی تسکین کو مانگے کا اجالا کہئے رات اک شوخ کی یاد آئی تھی ...

مزید پڑھیے

مری صہبا پرستی مورد الزام ہے ساقی

مری صہبا پرستی مورد الزام ہے ساقی خرد والوں کی محفل میں جنوں بدنام ہے ساقی جنوں میں اور خرد میں در حقیقت فرق اتنا ہے وہ زیر در ہے ساقی اور یہ زیر دام ہے ساقی سوئے منزل بڑھے جاتا ہوں مے خانہ بہ مے خانہ مذاق جستجو تشنہ لبی کا نام ہے ساقی کبھی جو چار قطرے بھی سلیقے سے نہ پی پائے وہ ...

مزید پڑھیے

قصور عشق میں ظاہر ہے سب ہمارا تھا

قصور عشق میں ظاہر ہے سب ہمارا تھا تری نگاہ نے دل کو مگر پکارا تھا وہ دن بھی کیا تھے کہ ہر بات میں اشارا تھا دلوں کا راز نگاہوں سے آشکارا تھا ہوائے شوق نے رنگ حیا نکھارا تھا چمن چمن لب و رخسار کا نظارا تھا فریب کھا کے تری شوخیوں سے کیا پوچھیں حیات و مرگ میں کس کی طرف اشارا ...

مزید پڑھیے

شوق کا تقاضہ ہے شرح آرزو کیجے

شوق کا تقاضہ ہے شرح آرزو کیجے دل سے عہد خاموشی کیسے گفتگو کیجے دل ہو یا گریباں ہو روز چاک ہوتے ہیں کیا جنوں کے موسم میں کوشش رفو کیجے عاشقی و خودداری بندگی و خود بینی آرزو کی راہوں میں خون آرزو کیجے داد سعئ پیہم کی کچھ تو دیجئے یعنی تازہ تر شکستوں سے دل کو سرخ رو کیجے پائے شوق ...

مزید پڑھیے

ہر موڑ کو چراغ سر رہ گزر کہو

ہر موڑ کو چراغ سر رہ گزر کہو بیتے ہوئے دنوں کو غبار سفر کہو خوں گشتہ آرزو کو کہو شام میکدہ دل کی جراحتوں کو چمن کی سحر کہو ہر رہ گزر پہ کرتا ہوں زنجیر کا قیاس چاہو تو تم اسے بھی جنوں کا اثر کہو میری متاع درد یہی زندگی تو ہے نا معتبر کہو کہ اسے معتبر کہو یہ بھی عروج رنگ کا اک ...

مزید پڑھیے

لطف یہ ہے جسے آشوب جہاں کہتا ہوں

لطف یہ ہے جسے آشوب جہاں کہتا ہوں اسی ظالم کو فروغ دل و جاں کہتا ہوں غیر کا ذکر ہی کیا مفت میں الزام نہ دو دل کی ہر بات میں تم سے بھی کہاں کہتا ہوں کسی مجبور کے ہونٹوں پہ جو آ جاتا ہے اس تبسم کو میں اعجاز فغاں کہتا ہوں نہ میں زندانی‌ٔ صحرا نہ اسیر گلشن کوئی بندش ہو اسے جی کا زیاں ...

مزید پڑھیے

چھٹے غبار نظر بام طور آ جائے

چھٹے غبار نظر بام طور آ جائے پیو شراب کہ چہرہ پہ نور آ جائے اٹھاؤ جام بنام حیات بادہ کشو نظارے جھومیں نظر کو سرور آ جائے شراب خانے میں کوثر کا ذکر کیا کہئے کسی کی عقل میں جیسے فتور آ جائے تمام زہد و ریاضت ہو غرق موج شراب جو میکدے میں وہ شیدائے حور آ جائے مقام دار سے گزرو تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4067 سے 5858