حسرت اے جاں شب جدائی ہے
حسرت اے جاں شب جدائی ہے مژدہ اے دل کہ موت آئی ہے تجھ سے مغرور کی جھکی گردن پھر بھی اک شان کبریائی ہے اس نے تلوار کو سنبھالا ہے دیکھیے کس کی موت آئی ہے پھر گیا جب سے وہ صنم بہ خدا ہم سے برگشتہ اک خدائی ہے بات سیدھی بھی وہ نہیں کرتا کج ادائی سے کج ادائی ہے آپ کو جانتا ہے آئینہ صاف ...