شاعری

حسرت اے جاں شب جدائی ہے

حسرت اے جاں شب جدائی ہے مژدہ اے دل کہ موت آئی ہے تجھ سے مغرور کی جھکی گردن پھر بھی اک شان کبریائی ہے اس نے تلوار کو سنبھالا ہے دیکھیے کس کی موت آئی ہے پھر گیا جب سے وہ صنم بہ خدا ہم سے برگشتہ اک خدائی ہے بات سیدھی بھی وہ نہیں کرتا کج ادائی سے کج ادائی ہے آپ کو جانتا ہے آئینہ صاف ...

مزید پڑھیے

اس کو غفلت‌ پیشہ کہہ آتے ہیں ہم

اس کو غفلت‌ پیشہ کہہ آتے ہیں ہم بھول جانا یاد دلواتے ہیں ہم ضعف سے رہتا ہے اب پاؤں پہ سر آپ اپنی ٹھوکریں کھاتے ہیں ہم دل نہیں اس بت کی الفت چھوڑتا نا سمجھ کو لاکھ سمجھاتے ہیں ہم ہے جنازہ اس لئے بھاری مرا حسرتیں دل کی لئے جاتے ہیں ہم بار عصیاں سر پہ ہے گویا بہت کیا اٹھائیں سر ...

مزید پڑھیے

کتنی ڈھل گئی عمر تمہاری حیرت ہے

کتنی ڈھل گئی عمر تمہاری حیرت ہے اب تک کیسے رہی کنواری حیرت ہے گھر میں آٹا دال نہ دلیا پھر بھی شیخ باہر کھائیں نان نہاری حیرت ہے اپنا روز کا ملنا آخر کام آیا امی بن گئیں ساس تمہاری حیرت ہے ہم تو تیرے تیر نظر سے مر جاتے لیکن تیرے ہاتھ میں آری حیرت ہے تیرے رخساروں سے دنیا روشن ...

مزید پڑھیے

مجھ کو غریب اور قرض دار دیکھ کر

مجھ کو غریب اور قرض دار دیکھ کر مجھ سے وہ دور ہے مجھے بیکار دیکھ کر پیدل ہمیں جو دیکھ کے کتراتے تھے کبھی اب لفٹ مانگتے ہیں وہی کار دیکھ کر عشاق سارے مر گئے ان کے تو دیکھیے پچھتا رہے ہیں اب ہمیں بیمار دیکھ کر اب رہنمائی کرنے سے کترا رہے ہیں سب مشہور رہنا کو سر دار دیکھ کر کل رات ...

مزید پڑھیے

بغیر اس کے اب آرام بھی نہیں آتا

بغیر اس کے اب آرام بھی نہیں آتا وہ شخص جس کا مجھے نام بھی نہیں آتا اسی کی شکل مجھے چاند میں نظر آئے وہ ماہ رخ جو لب بام بھی نہیں آتا کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا بٹھا دیا مجھے دریا کے اس کنارے پر جدھر حباب تہی جام بھی نہیں آتا چرا کے خواب ...

مزید پڑھیے

بن میں ویراں تھی نظر شہر میں دل روتا ہے

بن میں ویراں تھی نظر شہر میں دل روتا ہے زندگی سے یہ مرا دوسرا سمجھوتا ہے لہلہاتے ہوئے خوابوں سے مری آنکھوں تک رت جگے کاشت نہ کر لے تو وہ کب سوتا ہے جس کو اس فصل میں ہونا ہے برابر کا شریک میرے احساس میں تنہائیاں کیوں بوتا ہے نام لکھ لکھ کے ترا پھول بنانے والا آج پھر شبنمیں ...

مزید پڑھیے

سوتے ہیں وہ آئینہ لے کر خوابوں میں بال بناتے ہیں

سوتے ہیں وہ آئینہ لے کر خوابوں میں بال بناتے ہیں سادہ سے پرندے کی خاطر کیا ریشمی جال بناتے ہیں امید کی سوکھتی شاخوں سے سارے پتے جھڑ جائیں گے اس خوف سے اپنی تصویریں ہم سال بہ سال بناتے ہیں زخموں کو چھپانے کی خاطر کپڑے ہی بدلنا چھوڑ دیا پوچھو تو سہی ہم کس کے لیے اپنا یہ حال بناتے ...

مزید پڑھیے

کتاب آرزو کے گم شدہ کچھ باب رکھے ہیں

کتاب آرزو کے گم شدہ کچھ باب رکھے ہیں ترے تکیے کے نیچے بھی ہمارے خواب رکھے ہیں مکاں تو سطح دریا پر بنائے ہیں حبابوں نے اثاثے گھر کے لیکن سب نے زیر آب رکھے ہیں یہ کنکر ان سے پہلے ہاتھ پر لہریں بنا لے گا ہماری راہ میں چاہت نے جو تالاب رکھے ہیں کناروں پر پہنچ کر تیرنے لگتی ہیں ...

مزید پڑھیے

ہجر کے تپتے موسم میں بھی دل ان سے وابستہ ہے

ہجر کے تپتے موسم میں بھی دل ان سے وابستہ ہے اب تک یاد کا پتا پتا ڈالی سے پیوستہ ہے مدت گزری دور سے میں نے ایک سفینہ دیکھا تھا اب تک خواب میں آ کر شب بھر دریا مجھ کو ڈستا ہے شام ابد تک ٹکرانے کا اذن نہیں ہے دونوں کو چاند اسی پر گرم سفر ہے جو سورج کا رستہ ہے تیز نہیں گر آنچ بدن کی جم ...

مزید پڑھیے

کشتی بھی نہیں بدلی دریا بھی نہیں بدلا

کشتی بھی نہیں بدلی دریا بھی نہیں بدلا اور ڈوبنے والوں کا جذبہ بھی نہیں بدلا تصویر نہیں بدلی شیشہ بھی نہیں بدلا نظریں بھی سلامت ہیں چہرہ بھی نہیں بدلا ہے شوق سفر ایسا اک عمر سے یاروں نے منزل بھی نہیں پائی رستہ بھی نہیں بدلا بے کار گیا بن میں سونا مرا صدیوں کا اس شہر میں تو اب تک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4055 سے 5858