شاعری

کمبخت دل برا ہوا تری آہ آہ کا

کمبخت دل برا ہوا تری آہ آہ کا حسن نگاہ بھی نہ رہا گاہ گاہ کا چھیڑو نہ میٹھی نیند میں اے منکر و نکیر سونے دو بھائی میں تھکا ماندہ ہوں راہ کا میرے مقلدوں کو مری راہ شوق میں ہر گام پر نشان ملا سجدہ گاہ کا دل سا گواہ حشر میں آ کر پھسل گیا اب رحم پر معاملہ ہے داد خواہ کا کس منہ سے کہہ ...

مزید پڑھیے

دل کو ویرانہ کہو گے مجھے معلوم نہ تھا

دل کو ویرانہ کہو گے مجھے معلوم نہ تھا پھر بھی دل ہی میں رہوگے مجھے معلوم نہ تھا ساتھ دنیا کا میں چھوڑوں گا تمہاری خاطر اور تم ساتھ نہ دو گے مجھے معلوم نہ تھا چپ جو ہوں کوئی بری بات ہے میرے دل میں تم بھی یہ بات کہو گے مجھے معلوم نہ تھا لوگ روتے ہیں میری بد نظری کا رونا تم بھی اس رو ...

مزید پڑھیے

ان تلخ آنسوؤں کو نہ یوں منہ بنا کے پی

ان تلخ آنسوؤں کو نہ یوں منہ بنا کے پی یہ مے ہے خودکشید اسے مسکرا کے پی اتریں گے کس کے حلق سے یہ دل خراش گھونٹ کس کو پیام دوں کہ مرے ساتھ آ کے پی مشروب جم ہی تلخئ غم کا علاج ہے شیرینیٔ کلام ذرا سی ملا کے پی واعظ کی اب نہ مان اگر جان ہے عزیز اس دور میں یہ چیز بہ طور اک دوا کے پی بھر ...

مزید پڑھیے

دوستی کا چلن رہا ہی نہیں

دوستی کا چلن رہا ہی نہیں اب زمانے کی وہ ہوا ہی نہیں سچ تو یہ ہے صنم کدے والو دل خدا نے تمہیں دیا ہی نہیں پلٹ آنے سے ہو گیا ثابت نامہ بر تو وہاں گیا ہی نہیں حال یہ ہے کہ ہم غریبوں کا حال تم نے کبھی سنا ہی نہیں کیا چلے زور دشت وحشت کا ہم نے دامن کبھی سیا ہی نہیں غیر بھی ایک دن مریں ...

مزید پڑھیے

کوئی چارا نہیں دعا کے سوا

کوئی چارہ نہیں دعا کے سوا کوئی سنتا نہیں خدا کے سوا مجھ سے کیا ہو سکا وفا کے سوا مجھ کو ملتا بھی کیا سزا کے سوا برسر ساحل مراد یہاں کوئی ابھرا ہے ناخدا کے سوا کوئی بھی تو دکھاؤ منزل پر جس کو دیکھا ہو رہ نما کے سوا دل سبھی کچھ زبان پر لایا اک فقط عرض مدعا کے سوا کوئی راضی نہ رہ ...

مزید پڑھیے

یہ کیا مقام ہے وہ نظارے کہاں گئے

یہ کیا مقام ہے وہ نظارے کہاں گئے وہ پھول کیا ہوئے وہ ستارے کہاں گئے یاران بزم جرأت رندانہ کیا ہوئی ان مست انکھڑیوں کے اشارے کہاں گئے ایک اور دور کا وہ تقاضا کدھر گیا امڈے ہوئے وہ ہوش کے دھارے کہاں گئے افتاد کیوں ہے لغزش مستانہ کیوں نہیں وہ عذر مے کشی کے سہارے کہاں گئے دوران ...

مزید پڑھیے

یہ اور دور ہے اب اور کچھ نہ فرمائے

یہ اور دور ہے اب اور کچھ نہ فرمائے مگر حفیظؔ کو یہ بات کون سمجھائے وفا کا جوش تو کرتا چلا گیا مدہوش قدم قدم پہ مجھے دوست ہوش میں لائے پری رخوں کی زباں سے کلام سن کے مرا بہت سے لوگ مری شکل دیکھنے آئے بہشت میں بھی ملا ہے مجھے عذاب شدید یہاں بھی مولوی صاحب ہیں میرے ہمسائے عذاب قبر ...

مزید پڑھیے

وفاداریاں سخت نادانیاں ہیں

وفاداریاں سخت نادانیاں ہیں کہ ان کے نتیجے پشیمانیاں ہیں پشیمانیاں ہیں گناہوں پہ لیکن بڑے ہی مزے کی پشیمانیاں ہیں مری زندگی پر تعجب نہیں تھا مری موت پر ان کو حیرانیاں ہیں محبت کرو اور نباہو تو پوچھوں یہ دشواریاں ہیں کہ آسانیاں ہیں ندامت ہوئی حشر میں جن کے بدلے جوانی کی دو ...

مزید پڑھیے

جوانی کے ترانے گا رہا ہوں

جوانی کے ترانے گا رہا ہوں دبی چنگاریاں سلگا رہا ہوں مری بزم وفا سے جانے والو ٹھہر جاؤ کہ میں بھی آ رہا ہوں بتوں کو قول دیتا ہوں وفا کا قسم اپنے خدا کی کھا رہا ہوں وفا کا لازمی تھا یہ نتیجہ سزا اپنے کیے کی پا رہا ہوں خدا لگتی کہو بت خانے والو تمہارے ساتھ میں کیسا رہا ہوں زہے وہ ...

مزید پڑھیے

ہے ازل کی اس غلط بخشی پہ حیرانی مجھے

ہے ازل کی اس غلط بخشی پہ حیرانی مجھے عشق لافانی ملا ہے زندگی فانی مجھے میں وہ بستی ہوں کہ یاد رفتگاں کے بھیس میں دیکھنے آتی ہے اب میری ہی ویرانی مجھے تھی یہی تمہید میرے ماتمی انجام کی پھول ہنستے ہیں تو ہوتی ہے پشیمانی مجھے حسن بے پردہ ہوا جاتا ہے یا رب کیا کروں اب تو کرنی ہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4016 سے 5858