شاعری

مدتوں تک جو پڑھایا کیا استاد مجھے

مدتوں تک جو پڑھایا کیا استاد مجھے عشق میں بھول گیا کچھ نہ رہا یاد مجھے کیا میں دیوانہ ہوں یارب کہ سر راہ گزر دور سے گھورنے لگتے ہیں پری زاد مجھے اب ہے آواز کی وہ شان نہ بازو کی اڑان اور صیاد کیے دیتا ہے آزاد مجھے داد خواہی کے لیے اور تو ساماں نہ ملا نالہ و آہ پہ رکھنی پڑی بنیاد ...

مزید پڑھیے

اک بار پھر وطن میں گیا جا کے آ گیا

اک بار پھر وطن میں گیا جا کے آ گیا لخت جگر کو خاک میں دفنا کے آ گیا ہر ہم سفر پہ خضر کا دھوکا ہوا مجھے آب بقا کی راہ سے کترا کے آ گیا حور لحد نے چھین لیا تجھ کو اور میں اپنا سا منہ لیے ہوئے شرما کے آ گیا دل لے گیا مجھے تری تربت پہ بار بار آواز دے کے بیٹھ کے اکتا کے آ گیا رویا کہ تھا ...

مزید پڑھیے

مجاز عین حقیقت ہے با صفا کے لیے

مجاز عین حقیقت ہے با صفا کے لیے بتوں کو دیکھ رہا ہوں مگر خدا کے لیے اثر میں ہو گئے کیوں سات آسماں حائل ابھی تو ہاتھ اٹھے ہی نہیں دعا کے لیے ہوا بس ایک ہی نالے میں دم فنا اپنا یہ تازیانہ تھا عمر گریز پا کے لیے الٰہی ایک غم روزگار کیا کم تھا کہ عشق بھیج دیا جان مبتلا کے لیے ہمیں ...

مزید پڑھیے

مجھے شاد رکھنا کہ ناشاد رکھنا

مجھے شاد رکھنا کہ ناشاد رکھنا مرے دیدہ و دل کو آباد رکھنا بھلائی نہیں جا سکیں گی یہ باتیں تمہیں یاد آئیں گے ہم یاد رکھنا وہ ناشاد و برباد رکھتے ہیں مجھ کو الٰہی انہیں شاد و آباد رکھنا تمہیں بھی قسم ہے کہ جو سر جھکا دے اسی کو تہ تیغ بیداد رکھنا ملیں گے تمہیں راہ میں بت کدے ...

مزید پڑھیے

سونے والو جاگو

جاگو سونے والو جاگو وقت کے کھونے والو جاگو باغ میں چڑیاں بول رہی ہیں کلیاں آنکھیں کھول رہی ہیں پھول خوشی سے جھوم رہے ہیں پتوں کا منہ چوم رہے ہیں جاگ اٹھے دریا اور نہریں جاگ اٹھیں موجیں اور لہریں ناؤ چلانے والے جاگے پار لگانے والے جاگے ساری دنیا جاگ رہی ہے کام کی جانب بھاگ رہی ...

مزید پڑھیے

گوٹے کی چنری

دیکھ بوا مری گوٹے کی چنری آ ہا جی گل ناری چنری رنگ رنگیلی پیاری چنری ململ کی اک تاری چنری نازک نازک ساری چنری دیکھ بوا مری گوٹے کی چنری امی کے کچھ جی میں آیا گوٹے کا اک تھان منگایا چنری پر سارا چپکایا ہر کونے پر پھول بنایا دیکھ بوا مری گوٹے کی چنری لچکا ہے ہاتھوں میں لچکتا گوٹا ہے ...

مزید پڑھیے

طوفانی کشتی

دریا چڑھاؤ پر ہے اور بوجھ ناؤ پر ہے پہنائے آب سارا ہے کوچ کا اشارا ہوش آزما نظارا موجوں کے منہ میں کف ہے اک شور ہر طرف ہے مرگ آفریں ہے دھارا اور دور ہے کنارا کوئی نہیں سہارا تیغ آزما ہیں لہریں تیغیں ہیں یا ہیں لہریں توبہ ہوا کی تیزی موج فنا کی تیزی ہے کس بلا کی تیزی تدبیر ناخدا ...

مزید پڑھیے

اس شوخ نے نگاہ نہ کی ہم بھی چپ رہے

اس شوخ نے نگاہ نہ کی ہم بھی چپ رہے ہم نے بھی آہ آہ نہ کی ہم بھی چپ رہے آیا نہ ان کو عہد ملاقات کا لحاظ ہم نے بھی کوئی چاہ نہ کی ہم بھی چپ رہے دیکھا کئے ہماری طرف بزم غیر میں تجدید رسم و راہ نہ کی ہم بھی چپ رہے تھا زندگی سے بڑھ کے ہمیں وضع کا خیال جب عمر نے نباہ نہ کی ہم بھی چپ ...

مزید پڑھیے

حسن نے سیکھیں غریب آزاریاں

حسن نے سیکھیں غریب آزاریاں عشق کی مجبوریاں لاچاریاں بہہ گیا دل حسرتوں کے خون میں لے گئیں بیمار کو بیماریاں سوچ کر غم دیجئے ایسا نہ ہو آپ کو کرنی پڑیں غم خواریاں دار کے قدموں میں بھی پہنچی نہ عقل عشق ہی کے سر رہیں سرداریاں اک طرف جنس وفا قیمت طلب اک طرف میں اور مری ...

مزید پڑھیے

عرض ہنر بھی وجہ شکایات ہو گئی

عرض ہنر بھی وجہ شکایات ہو گئی چھوٹا سا منہ تھا مجھ سے بڑی بات ہو گئی دشنام کا جواب نہ سوجھا بجز سلام ظاہر مرے کلام کی اوقات ہو گئی دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی یا ضربت خلیل سے بت خانہ چیخ اٹھا یا پتھروں کو معرفت ذات ہو گئی یاران بے بساط کہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4013 سے 5858