شاعری

اقبالؔ کے مزار پر

لحد میں سو رہی ہے آج بے شک مشت خاک اس کی مگر گرم عمل ہے جاگتی ہے جان پاک اس کی وہ اک فانی بشر تھا میں یہ باور کر نہیں سکتا بشر اقبال ہو جائے تو ہرگز مر نہیں سکتا بہ زیر سایۂ دیوار مسجد ہے جو آسودہ یہ خاکی جسم ہے ستر برس کا راہ پیمودہ یہ خاکی جسم بھی اس کا بہت ہی بیش قیمت تھا جسے ہم ...

مزید پڑھیے

آ جا ری چڑیا

آ جا ری چڑیا آ جا ری چڑیا منڈیر پر کیوں کرتی ہے چوں چوں آ جا تجھے میں دانہ کھلاؤں روٹی کے بھورے چھت پر بکھیروں لے اپنا کھاجا کھا جا ری چڑیا سن لے ری چڑیا سن لے ری چڑیا کیا ننھے ننھے بچے ہیں تیرے کرتے ہیں چیں چیں اتنے سویرے لے میں نے گیہوں چھت پر بکھیرے یہ دانے دنکے چن لے ری چڑیا سن ...

مزید پڑھیے

پئے جا

شراب خانہ ہے بزم ہستی ہر ایک ہے محو عیش و مستی مآل بینی و مے پرستی ارے یہ ذلت ارے یہ پستی شعار رندانہ کر پئے جا اگر کوئی تجھ کو ٹوکتا ہے شراب پینے سے روکتا ہے سمجھ اسے ہوش میں نہیں ہے خرد کے آغوش میں نہیں ہے تو اس سے جھگڑا نہ کر پئے جا خیال روز حساب کیسا ثواب کیسا عذاب کیسا بہشت و ...

مزید پڑھیے

رقاصہ

اٹھی ہے مغرب سے گھٹا پینے کا موسم آ گیا ہے رقص میں اک مہ لقا نازک ادا ناز آفریں ہاں ناچتی جا گائے جا نظروں سے دل برمائے جا تڑپائے جا تڑپائے جا او دشمن دنیا و دیں! تیرا تھرکنا خوب ہے تیری ادائیں دل نشیں لیکن ٹھہر تو کون ہے او نیم عریاں نازنیں کیا مشرقی عورت ہے تو ہرگز نہیں ہرگز ...

مزید پڑھیے

گنگا

اے شاندار گنگا اے پر بہار گنگا گنگوتری سے نکلی کیسی اچھل اچھل کر اور پربتوں سے اتری پہلو بدل بدل کر پتھر بہائے تو نے جو راستے میں آئے کودی بلندیوں سے جلوے عجب دکھائے اک راہ میں بنائے سو آبشار گنگا اے شاندار گنگا اے پر بہار گنگا وہ اپنی رو میں بہنا اونچے سروں میں گانا چڑیوں کا ...

مزید پڑھیے

کبھی زمیں پہ کبھی آسماں پہ چھائے جا

کبھی زمیں پہ کبھی آسماں پہ چھائے جا اجاڑنے کے لیے بستیاں بسائے جا خضر کا ساتھ دیے جا قدم بڑھائے جا فریب کھائے ہوئے کا فریب کھائے جا تری نظر میں ستارے ہیں اے مرے پیارے اڑائے جا تہ افلاک خاک اڑائے جا نہیں عتاب زمانہ خطاب کے قابل ترا جواب یہی ہے کہ مسکرائے جا اناڑیوں سے تجھے ...

مزید پڑھیے

مل جائے مے تو سجدۂ شکرانہ چاہیے

مل جائے مے تو سجدۂ شکرانہ چاہیے پیتے ہی ایک لغزش مستانہ چاہیے ہاں احترام کعبہ و بتخانہ چاہیے مذہب کی پوچھیے تو جداگانہ چاہیے رندان مے پرست سیہ مست ہی سہی اے شیخ گفتگو تو شریفانہ چاہیے دیوانگی ہے عقل نہیں ہے کہ خام ہو دیوانہ ہر لحاظ سے دیوانہ چاہیے اس زندگی کو چاہیے سامان ...

مزید پڑھیے

اب تو کچھ اور بھی اندھیرا ہے

اب تو کچھ اور بھی اندھیرا ہے یہ مری رات کا سویرا ہے رہزنوں سے تو بھاگ نکلا تھا اب مجھے رہبروں نے گھیرا ہے آگے آگے چلو تبر والو ابھی جنگل بہت گھنیرا ہے قافلہ کس کی پیروی میں چلے کون سب سے بڑا لٹیرا ہے سر پہ راہی کے سربراہی نے کیا صفائی کا ہاتھ پھیرا ہے سرمہ آلود خشک آنسوؤں ...

مزید پڑھیے

حیران نہ ہو دیکھ میں کیا دیکھ رہا ہوں

حیران نہ ہو دیکھ میں کیا دیکھ رہا ہوں بندے تری صورت میں خدا دیکھ رہا ہوں وہ اپنی جفاؤں کا اثر دیکھ رہے ہیں میں معنیٔ تسلیم و رضا دیکھ رہا ہوں دزدیدہ نگاہوں سے کدھر دیکھ رہے ہو کیا بات ہے! یہ آج میں کیا دیکھ رہا ہوں ہے حسن یہی شے تو گماں اور نہ کیجے سودا نہیں مطلوب ذرا دیکھ رہا ...

مزید پڑھیے

اٹھو اب دیر ہوتی ہے وہاں چل کر سنور جانا

اٹھو اب دیر ہوتی ہے وہاں چل کر سنور جانا یقینی ہے گھڑی دو میں مریض غم کا مر جانا مجھے ڈر ہے گلوں کے بوجھ سے مرقد نہ دب جائے انہیں عادت ہے جب آنا ضرور احسان دھر جانا حباب آ سامنے سب ولولے جوش جوانی کے غضب تھا قلزم امید کا چڑھ کر اتر جانا یہاں جز کشتیٔ موج بلا کچھ بھی نہ پاؤ گے اسی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4012 سے 5858