اقبالؔ کے مزار پر
لحد میں سو رہی ہے آج بے شک مشت خاک اس کی مگر گرم عمل ہے جاگتی ہے جان پاک اس کی وہ اک فانی بشر تھا میں یہ باور کر نہیں سکتا بشر اقبال ہو جائے تو ہرگز مر نہیں سکتا بہ زیر سایۂ دیوار مسجد ہے جو آسودہ یہ خاکی جسم ہے ستر برس کا راہ پیمودہ یہ خاکی جسم بھی اس کا بہت ہی بیش قیمت تھا جسے ہم ...