سامنے دختر برہمن ہے
سامنے دختر برہمن ہے آج اوسان کا خدا حافظ جان دینے سے ہچکچاتا ہوں مرے ایمان کا خدا حافظ
سامنے دختر برہمن ہے آج اوسان کا خدا حافظ جان دینے سے ہچکچاتا ہوں مرے ایمان کا خدا حافظ
جو بھی ہے صورت حالات کہو چپ نہ رہو رات اگر ہے تو اسے رات کہو چپ نہ رہو گھیر لایا ہے اندھیروں میں ہمیں کون حفیظؔ آؤ کہنے کی ہے جو بات کہو چپ نہ رہو
لو پھر بسنت آئی پھولوں پہ رنگ لائی چلو بے درنگ لب آب گنگ بجے جل ترنگ من پر امنگ چھائی پھولوں پہ رنگ لائی لو پھر بسنت آئی آفت گئی خزاں کی قسمت پھری جہاں کی چلے مے گسار سوئے لالہ زار مئے پردہ دار شیشے کے در سے جھانکی قسمت پھری جہاں کی آفت گئی خزاں کی کھیتوں کا ہر چرندہ باغوں کا ہر ...
مری شاعری ہے نظاروں کی دنیا یہ نغمہ سرا جوئباروں کی دنیا یہ ہنگامہ زار آبشاروں کی دنیا فلک آشنا کوہساروں کی دنیا یہ پھولوں کی بستی بہاروں کی دنیا یہی ہے مرے شاہ کاروں کی دنیا مری شاعری ہے نظاروں کی دنیا مری شاعری چاند تاروں کی دنیا یہ رنگیں گھروندا طلسم زمانہ کھلونوں کا ہے اک ...
ماسٹر جی باہر گئے ہیں ماسٹر جی گئے ذرا باہر اب نظر کیا رہے کتابوں پر دل ہی دل میں ہیں سارے لڑکے شاد گویا قیدی تھے اب ہوئے آزاد اب کتابیں کہاں سبق کس کا پڑھنا وڑھنا خیال سے کھسکا ایک ہنستا ہے ایک گاتا ہے اور اک چٹکیاں بجاتا ہے ایک بیٹھے ہی بیٹھے سوتا ہے اور اک جھوٹ موٹ روتا ہے مشورے ...
اے دیکھنے والو اس حسن کو دیکھو اس راز کو سمجھو یہ نقش خیالی یہ فکرت عالی یہ پیکر تنویر یہ کرشن کی تصویر معنی ہے کہ صورت صنعت ہے کہ فطرت ظاہر ہے کہ مستور نزدیک ہے یا دور یہ نار ہے یا نور دنیا سے نرالا یہ بانسری والا گوکل کا گوالا ہے سحر کہ اعجاز کھلتا ہی نہیں راز کیا شان ہے واللہ کیا ...
ہوا بھی خوش گوار ہے گلوں پہ بھی نکھار ہے ترنم ہزار ہے بہار پر بہار ہے کہاں چلا ہے ساقیا ادھر تو لوٹ ادھر تو آ ارے یہ دیکھتا ہے کیا اٹھا سبو سبو اٹھا سبو اٹھا پیالہ بھر پیالہ بھر کے دے ادھر چمن کی سمت کر نظر سماں تو دیکھ بے خبر وہ کالی کالی بدلیاں افق پہ ہو گئیں عیاں وہ اک ہجوم مے ...
سیاہی بن کے چھایا شہر پر شیطان کا فتنہ گناہوں سے لپٹ کر سو گیا انسان کا فتنہ پناہیں حسن نے پائیں سیہ کاری کے دامن میں وفاداری ہوئی روپوش ناداری کے دامن میں میسر ہیں زری کے شامیانے خوش نصیبی کو اوڑھا دی سایۂ دیوار نے چادر غریبی کو مشقت کو سکھا کر خوبیاں خدمت گزاری کی ہوئیں بے ...
اک لڑکی تھی چھوٹی سی دبلی سی اور موٹی سی ننھی سی اور منی سی بالکل ہی تھن متھنی سی اس کے بال تھے کالے سے سیدھے گھنگریالے سے منہ پر اس کے لالی سی چٹی سی مٹیالی سی اس کی ناک پکوڑی سی نوکیلی سی چوڑی سی آنکھیں کالی نیلی سی سرخ سفید اور پیلی سی کپڑے اس کے تھیلے سے اجلے سے اور میلے سے یہ ...
فتنۂ خفتہ جگائے اس گھڑی کس کی مجال قید ہیں شہزادیاں کوئی نہیں پرسان حال ان غریبوں کی مدد پر کوئی آمادہ نہیں ایک شاعر ہے یہاں لیکن وہ شہزادہ نہیں آہوؤں کی سرمگیں پلکیں فضا پر حکمراں چھائی ہیں ارض و سما پر آہنیں سی جالیاں دور سے کوہسار و وادی پر یہ ہوتا ہے گماں اونٹ ہیں بیٹھے ...