حیات جاوداں ہم کیا کریں گے
حیات جاوداں ہم کیا کریں گے جہاں تم ہو وہاں ہم کیا کریں گے کہے گی کیا ہماری بے زبانی بوقت امتحاں ہم کیا کریں گے
حیات جاوداں ہم کیا کریں گے جہاں تم ہو وہاں ہم کیا کریں گے کہے گی کیا ہماری بے زبانی بوقت امتحاں ہم کیا کریں گے
مدفن غریباں ہے آؤ فاتحہ پڑھ لیں ہم رہو ٹھہر جاؤ دوستوں کی بستی ہے تھا ابال مستی کا سر بلند ماضی میں حال دیکھنا اپنا انتہا کی پستی ہے
ذکر استاد فن کا جانے دے کسی نقاد فن کا حال سنا خالقان سخن کی فکر نہ کر قاتلان سخن کی چال سنا
حسن کی آنکھ اگر حیا نہ کرے عشق زندہ رہے خدا نہ کرے کس قدر بے کسی کا عالم ہے چاہتا ہوں کوئی دعا نہ کرے
پار اترا ہوں کس قرینے سے موج اٹھا لے گئی سفینے سے آنسوؤ کیا بنے گا پینے سے جی ہی اکتا گیا ہے جینے سے
سکون زندگی ترک عمل کا نام ہے شاید نہ خوش ہوتا ہوں آساں سے نہ گھبراتا ہوں مشکل سے جدائی پر بھی حسن و عشق کی وابستگی دیکھو کہ مجنوں آہ کرتا ہے دھواں اٹھتا ہے محمل سے
بت کہتے ہیں مر جا مر جا حکم خدا ہے اور ٹھہر جا ہائے کو نعرۂ ہو سے بدل دے یار حفیظؔ یہ کام تو کر جا
آیا تھا بزم شعر میں عرض ہنر کو میں اب جا رہا ہوں ڈھونڈنے اہل نظر کو میں سر پھوڑنا کمال جنوں بھی نہیں رہا بیٹھا رہوں گا سر میں لیے درد سر کو میں
حیران ہو کے منہ مرا تکتے ہیں بار بار احساں کیا یہ گریۂ بے اختیار نے اغیار سے بھی کرنے لگے وعدہ ہائے حشر عادت بگاڑ دی ہے مرے اعتبار نے
(۱) گرم جوشی اب سورج سر پر آ دھمکے گا ٹھنڈا لوہا چمکے گا اور دھوپ جواں ہو جائے گی سٹھیائے ہوئے فرزانوں پر اب زیست گراں ہو جائے گی ہر اصل عیاں ہو جائے گی اب خوب ہنسے گا دیوانہ اب آگ بگولے ناچیں گے سب لنگڑے لولے ناچیں گے گرداب بلا بن جائیں گے روندی ہوئی مٹی کے ذرے طوفان بہ پا بن ...