یا خادم دیں ہونا یا مظہر دیں ہونا
یا خادم دیں ہونا یا مظہر دیں ہونا یا تخت نشیں ہونا یا خاک نشیں ہونا جب کچھ بھی نہیں کرنا جب کچھ بھی نہیں ہونا اس ننگ سے بہتر ہے پیوند زمیں ہونا
یا خادم دیں ہونا یا مظہر دیں ہونا یا تخت نشیں ہونا یا خاک نشیں ہونا جب کچھ بھی نہیں کرنا جب کچھ بھی نہیں ہونا اس ننگ سے بہتر ہے پیوند زمیں ہونا
آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں آ جائیں رعب غیر میں ہم وہ بشر نہیں کچھ آپ کی طرح ہمیں لوگوں کا ڈر نہیں اک تو شب فراق کے صدمے ہیں جاں گداز اندھیر اس پہ یہ ہے کہ ہوتی سحر نہیں کیا کہئے اس طرح کے تلون مزاج کو وعدے کا ہے یہ حال ادھر ہاں ادھر ...
کسی محاذ پہ وہ بولنے نہیں دیتا ضرورتاً بھی زباں کھولنے نہیں دیتا قفس میں اب بھی محافظ کئی پرندوں پر نگاہ رکھتا ہے پر تولنے نہیں دیتا وہ جس کا حق ہے اسے بھی تو نا شناس وفا محل سراؤں کے در کھولنے نہیں دیتا مرا بھی پیار ہے صادق اسی لئے تو کبھی کسی کو پیار میں سم گھولنے نہیں ...
سنا ہے زخمی تیغ نگہ کا دم نکلتا ہے ترا ارمان لے اے قاتل عالم نکلتا ہے نہ آنکھوں میں مروت ہے نہ جائے رحم ہے دل میں جہاں میں بے وفا معشوق تم سا کم نکلتا ہے کہا عاشق سے واقف ہو تو فرمایا نہیں واقف مگر ہاں اس طرف سے ایک نامحرم نکلتا ہے محبت اٹھ گئی سارے زمانے سے مگر اب تک ہمارے ...
بوسہ لیا جو چشم کا بیمار ہو گئے زلفیں چھوئیں بلا میں گرفتار ہو گئے سکتہ ہے بیٹھے سامنے تکتے ہیں ان کی شکل کیا ہم بھی عکس آئینۂ یار ہو گئے بیٹھے تمہارے در پہ تو جنبش تلک نہ کی ایسے جمے کہ سایۂ دیوار ہو گئے ہم کو تو ان کے خنجر ابرو کے عشق میں دن زندگی کے کاٹنے دشوار ہو گئے
یہ محو ہوئے دیکھ کے بے ساختہ پن کو آئینے میں خود چوم لیا اپنے دہن کو کرتی ہے نیا روز مرے داغ کہن کو غربت میں خدا یاد دلائے نہ وطن کو چھوڑا وطن آباد کیا ملک دکن کو تقدیر کہاں لے گئی یاران وطن کو کیا لطف ہے جب مونس و یاور نہ ہو کوئی ہم وادئ غربت ہی سمجھتے ہیں وطن کو مرجھائے پڑے ...
جیے جاتا ہوں اس شرمندگی میں مجھے مرنا ہے ایسی زندگی میں مری صورت کدورت بن رہی ہے جبین یار کی تابندگی میں
اجنبیوں کے شہر میں گم ہوں مگر میں کون ہوں دیدہ و دل کی ہے تلاش کس کو خبر میں کون ہوں اپنی نگاہ کے سوا کچھ بھی نہیں میں دیکھتا مجھ کو بھی دیکھنا ذرا اہل نظر میں کون ہوں
میرے آقا تجھے بندے کا خیال آ ہی گیا آخر کار مرا یوم وصال آ ہی گیا بے تکلف اسے جانا غلطی ہو ہی گئی غلطی ہو ہی گئی لب پہ سوال آ ہی گیا
جو مرے دل میں ہے کہنے دیجیے یا مجھے خاموش رہنے دیجیے پھول ہوں کانٹا ہوں جو کچھ ہوں مجھے آنسوؤں کی رو میں بہنے دیجیے