بلائے جاں مجھے ہر ایک خوش جمال ہوا
بلائے جاں مجھے ہر ایک خوش جمال ہوا چھری جو تیز ہوئی پہلے میں حلال ہوا گرو ہوا تو اسے چھوٹنا محال ہوا دل غریب مرا مفلسوں کا مال ہوا کمی نہیں تری درگاہ میں کسی شے کی وہی ملا ہے جو محتاج کا سوال ہوا دکھا کے چہرۂ روشن وہ کہتے ہیں سر شام وہ آفتاب نہیں ہے جسے زوال ہوا دکھا نہ دل کو ...