شاعری

بلائے جاں مجھے ہر ایک خوش جمال ہوا

بلائے جاں مجھے ہر ایک خوش جمال ہوا چھری جو تیز ہوئی پہلے میں حلال ہوا گرو ہوا تو اسے چھوٹنا محال ہوا دل غریب مرا مفلسوں کا مال ہوا کمی نہیں تری درگاہ میں کسی شے کی وہی ملا ہے جو محتاج کا سوال ہوا دکھا کے چہرۂ روشن وہ کہتے ہیں سر شام وہ آفتاب نہیں ہے جسے زوال ہوا دکھا نہ دل کو ...

مزید پڑھیے

کام ہمت سے جواں مرد اگر لیتا ہے

کام ہمت سے جواں مرد اگر لیتا ہے سانپ کو مار کے گنجینۂ زر لیتا ہے نا گوارا کو جو کرتا ہے گوارا انساں زہر پی کر مزۂ شیر و شکر لیتا ہے ہالے میں ماہ کا ہوتا ہے چکوروں کو یقیں کبھی انگڑائی جو وہ رشک قمر لیتا ہے وہ زبوں بخت شجر ہوں میں کہ دہقاں میرا پیچھے بوتا ہے مجھے پہلے تبر لیتا ...

مزید پڑھیے

وہی چتون کی خوں خواری جو آگے تھی سو اب بھی ہے

وہی چتون کی خوں خواری جو آگے تھی سو اب بھی ہے تری آنکھوں کی بیماری جو آگے تھی سو اب بھی ہے وہی نشو نمائے سبزہ ہے گور غریباں پر ہوائے چرخ زنگاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے تعلق ہے وہی تا حال ان زلفوں کے سودے سے سلاسل کی گرفتاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے وہی سر کا پٹکنا ہے وہی رونا ہے دن ...

مزید پڑھیے

رجوع بندہ کی ہے اس طرح خدا کی طرف

رجوع بندہ کی ہے اس طرح خدا کی طرف پھرے ضمیر خبر جیسے مبتدا کی طرف بعید کیا ہے مروت سے تیری اے شہ حسن نگاہ لطف سے دیکھے جو تو گدا کی طرف کہاں وہ زلف کہاں خون نافۂ آہو جو مشک سمجھے ہیں وہ لوگ ہیں خطا کی طرف الجھ کے شانے سے کھاتا ہے سیکڑوں جھٹکے قصور سے یہ ترے گیسوئے رسا کی طرف خدا ...

مزید پڑھیے

آئنہ خانہ کریں گے دل ناکام کو ہم

آئنہ خانہ کریں گے دل ناکام کو ہم پھیریں گے اپنی طرف روئے دل آرام کو ہم شام سے صبح تلک دور شراب آخر ہے روتے ہیں دیکھ کے خنداں دہن جام کو ہم یاد رکھنے کی جگہ ہے یہ طلسم حیرت صبح کو دیکھتے ہی بھول گئے شام کو ہم آنکھ وہ فتنۂ دوراں کسے دکھلاتا ہے شعبدہ جانتے ہیں گردش ایام کو ...

مزید پڑھیے

دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے

دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے کلام آتے ہیں درمیاں کیسے کیسے زمین چمن گل کھلاتی ہے کیا کیا بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے تمہارے شہیدوں میں داخل ہوئے ہیں گل و لالہ و ارغواں کیسے کیسے بہار آئی ہے نشہ میں جھومتے ہیں مریدان پیر مغاں کیسے کیسے عجب کیا چھٹا روح سے جامۂ تن لٹے راہ ...

مزید پڑھیے

شب وصل تھی چاندنی کا سماں تھا

شب وصل تھی چاندنی کا سماں تھا بغل میں صنم تھا خدا مہرباں تھا مبارک شب قدر سے بھی وہ شب تھی سحر تک مہ و مشتری کا قراں تھا وہ شب تھی کہ تھی روشنی جس میں دن کی زمیں پر سے اک نور تا آسماں تھا نکالے تھے دو چاند اس نے مقابل وہ شب صبح جنت کا جس پر گماں تھا عروسی کی شب کی حلاوت تھی ...

مزید پڑھیے

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا کیا کیا الجھتا ہے تری زلفوں کے تار سے بخیہ طلب ہے سینۂ صد چاک شانہ کیا زیر زمیں سے آتا ہے جو گل سو زر بکف قاروں نے راستے میں لٹایا خزانہ کیا اڑتا ہے شوق راحت منزل سے اسپ عمر مہمیز کہتے ہیں گے کسے تازیانہ ...

مزید پڑھیے

وہ نازنیں یہ نزاکت میں کچھ یگانہ ہوا

وہ نازنیں یہ نزاکت میں کچھ یگانہ ہوا جو پہنی پھولوں کی بدھی تو درد شانہ ہوا شہید ناز و ادا کا ترے زمانہ ہوا اڑایا مہندی نے دل چور کا بہانہ ہوا شب اس کے افعئ گیسو کا جو فسانہ ہوا ہوا کچھ ایسی بندھی گل چراغ خانہ ہوا نہ زلف یار کا خاکہ بھی کر سکا مانی ہر ایک بال میں کیا کیا نہ ...

مزید پڑھیے

کوچۂ دلبر میں میں بلبل چمن میں مست ہے

کوچۂ دلبر میں میں بلبل چمن میں مست ہے ہر کوئی یاں اپنے اپنے پیرہن میں مست ہے نشۂ دولت سے منعم پیرہن میں مست ہے مرد مفلس حالت رنج و محن میں مست ہے دور گردوں ہے خداوندا کہ یہ دور شراب دیکھتا ہوں جس کو میں اس انجمن میں مست ہے آج تک دیکھا نہیں ان آنکھوں نے روئے خمار کون مجھ سا گنبد ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3995 سے 5858