پیمبر میں نہیں عاشق ہوں جانی
پیمبر میں نہیں عاشق ہوں جانی رہے موسی ہی سے یہ لن ترانی سلیماں ہم ہیں اے محبوب جانی سمجھتے ہیں تجھے بلقیس ثانی کھلا سودے میں ان زلفوں کے مر کر پریشاں خواب تھی یہ زندگانی یہ کیوں آتا ہے ان سے قد کشی کو گڑی جاتی ہے سرو بوستانی وہی دے گا کباب نرگسی بھی جو دیتا ہے شراب ...