شاعری

آشنا گوش سے اس گل کے سخن ہے کس کا

آشنا گوش سے اس گل کے سخن ہے کس کا کچھ زباں سے کہے کوئی یہ دہن ہے کس کا پیشتر حشر سے ہوتی ہے قیامت برپا جو چلن چلتے ہیں خوش قد یہ چلن ہے کس کا دست قدرت نے بنایا ہے تجھے اے محبوب ایسا ڈھالا ہوا سانچے میں بدن ہے کس کا کس طرح تم سے نہ مانگیں تمہیں انصاف کرو بوسہ لینے کا سزا وار دہن ہے ...

مزید پڑھیے

اے جنوں ہوتے ہیں صحرا پر اتارے شہر سے

اے جنوں ہوتے ہیں صحرا پر اتارے شہر سے فصل گل آئی کہ دیوانے سدھارے شہر سے خوب روئے حال پر اپنے وطن کا سن کے حال کوئی غربت میں جو آ نکلا ہمارے شہر سے جان دوں گا میں اسیر اے دوستو چپکے رہو ذکر کیا اس کا کہ دیوانہ سدھارے شہر سے موسم گل میں رہا زنداں میں اور آئی نہ موت سامنے ہوتی نہیں ...

مزید پڑھیے

صورت سے اس کی بہتر صورت نہیں ہے کوئی

صورت سے اس کی بہتر صورت نہیں ہے کوئی دیدار یار سی بھی دولت نہیں ہے کوئی آنکھوں کو کھول اگر تو دیدار کا ہے بھوکا چودہ طبق سے باہر نعمت نہیں ہے کوئی ثابت ترے دہن کو کیا منطقی کریں گے ایسی دلیل ایسی حجت نہیں ہے کوئی یہ کیا سمجھ کے کڑوے ہوتے ہیں آپ ہم سے پی جائے گا کسی کو شربت نہیں ...

مزید پڑھیے

وحشت دل نے کیا ہے وہ بیاباں پیدا

وحشت دل نے کیا ہے وہ بیاباں پیدا سیکڑوں کوس نہیں صورت انساں پیدا سحر وصل کرے گی شب ہجراں پیدا صلب کافر ہی سے ہوتا ہے مسلماں پیدا دل کے آئینے میں کر جوہر پنہاں پیدا در و دیوار سے ہو صورت جاناں پیدا خار دامن سے الجھتے ہیں بہار آئی ہے چاک کرنے کو کیا گل نے گریباں پیدا نسبت اس دست ...

مزید پڑھیے

زندے وہی ہیں جو کہ ہیں تم پر مرے ہوے

زندے وہی ہیں جو کہ ہیں تم پر مرے ہوے باقی جو ہیں سو قبر میں مردے بھرے ہوئے مست الست قلزم ہستی میں آئے ہیں مثل حباب اپنا پیالہ بھرے ہوئے اللہ رے صفائے تن نازنین یار موتی ہیں کوٹ کوٹ کے گویا بھرے ہوئے دو دن سے پاؤں جو نہیں دبوائے یار نے بیٹھے ہیں ہاتھ ہاتھ کے اوپر دھرے ہوئے ان ...

مزید پڑھیے

آبلے پاؤں کے کیا تو نے ہمارے توڑے

آبلے پاؤں کے کیا تو نے ہمارے توڑے خار صحرائے جنوں عرش کے تارے توڑے ذقن و رخ میں نہ جاسوسوں سے باقی رکھی ثمر گل چمن حسن کے سارے توڑے سلسلہ اپنی گرفتاری کا کب قطع ہوا پہنی پازیب انہوں نے جو اتارے توڑے مست مجھ سا بھی کوئی نشہ کا ہوگا نہ حریص پی کے مے جام کے دانتوں سے کنارے ...

مزید پڑھیے

توڑ کر تار نگہ کا سلسلہ جاتا رہا

توڑ کر تار نگہ کا سلسلہ جاتا رہا خاک ڈال آنکھوں میں میری قافلہ جاتا رہا کون سے دن ہاتھ میں آیا مرے دامان یار کب زمین و آسماں کا فاصلہ جاتا رہا خار صحرا پر کسی نے تہمت دزدی نہ کی پاؤں کا مجنوں کے کیا کیا آبلہ جاتا رہا دوستوں سے اس قدر صدمے اٹھائے جان پر دل سے دشمن کی عداوت کا گلہ ...

مزید پڑھیے

دل لگی اپنی ترے ذکر سے کس رات نہ تھی

دل لگی اپنی ترے ذکر سے کس رات نہ تھی صبح تک شام سے یاہو کے سوا بات نہ تھی التجا تجھ سے کب اے قبلۂ حاجات نہ تھی تیری درگاہ میں کس روز مناجات نہ تھی اب ملاقات ہوئی ہے تو ملاقات رہے نہ ملاقات تھی جب تک کہ ملاقات نہ تھی غنچۂ گل کو نہ ہنسنا تھا تری صورت سے چھوٹے سے منہ کی سزاوار بڑی ...

مزید پڑھیے

ایسی وحشت نہیں دل کو کہ سنبھل جاؤں گا

ایسی وحشت نہیں دل کو کہ سنبھل جاؤں گا صورت پیرہن تنگ نکل جاؤں گا وہ نہیں ہوں کہ رکھائی سے جو ٹل جاؤں گا آج جاتا تھا تو ضد سے تری کل جاؤں گا شام ہجراں کسی صورت سے نہیں ہوتی صبح منہ چھپا کر میں اندھیرے میں نکل جاؤں گا کھینچ کر تیغ کمر سے کسے دکھلاتے ہو ناف معشوق نہیں ہوں جو میں ٹل ...

مزید پڑھیے

چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم

چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم نہال کس کو کرے باغباں نہیں معلوم مرے صنم کا کسی کو مکاں نہیں معلوم خدا کا نام سنا ہے نشاں نہیں معلوم اخیر ہو گئے غفلت میں دن جوانی کے بہار عمر ہوئی کب خزاں نہیں معلوم یہ اشتیاق شہادت میں محو تھا دم قتل لگے ہیں زخم بدن پر کہاں نہیں معلوم سنا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3993 سے 5858