آشنا گوش سے اس گل کے سخن ہے کس کا
آشنا گوش سے اس گل کے سخن ہے کس کا کچھ زباں سے کہے کوئی یہ دہن ہے کس کا پیشتر حشر سے ہوتی ہے قیامت برپا جو چلن چلتے ہیں خوش قد یہ چلن ہے کس کا دست قدرت نے بنایا ہے تجھے اے محبوب ایسا ڈھالا ہوا سانچے میں بدن ہے کس کا کس طرح تم سے نہ مانگیں تمہیں انصاف کرو بوسہ لینے کا سزا وار دہن ہے ...