اپنے اندر اتر رہا ہوں میں
اپنے اندر اتر رہا ہوں میں دھیرے دھیرے سدھر رہا ہوں میں نور و ظلمت میں امتیاز نہیں اس کنوئیں میں اتر رہا ہوں میں جس کو دیکھو چرا رہا ہے نگاہ کس گلی سے گزر رہا ہوں میں خود کو اک دن سمیٹنا بھی ہے آج کل تو بکھر رہا ہوں میں چھوڑا اندیشہ ہائے دور دراز جی رہا ہوں کہ مر رہا ہوں ...