ترغیب
کبھی تم جو آؤ تو میں صبح کے چھٹپٹے میں تمہیں سب سے اونچی عمارت کی چھت سے دکھاؤں درختوں کے اک سبز کمبل میں لپٹا ہوا شہر سارا کلس اور محراب کے درمیاں اڑنے والے مقدس کبوتر بہت دور چاندی کے اک تار ایسی ندی اس سے آگے جری کوہساروں کا اک سرمئی سلسلہ کبھی تم جو آؤ تو میں ایک تپتی ہوئی ...