خود سے ہوا جدا تو ملا مرتبہ تجھے
خود سے ہوا جدا تو ملا مرتبہ تجھے آزاد ہو کے مجھ سے مگر کیا ملا تجھے اک لحظہ اپنی آنکھ میں تو جھانک لے اگر آؤں نظر میں بکھرا ہوا جا بجا تجھے تھا مجھ کو تیرا پھینکا ہوا پھول ہی بہت لفظوں کا اہتمام بھی کرنا پڑا تجھے یہ اور بات میں نے صدائیں ہزار دیں آئی نہ دشت ہول سے اک بھی صدا ...