حادثہ
بے آواز تھے آنسو اس کے چھوٹے چھوٹے پیر تھے اس کے تن جیسے روئی کا گالا رنگ تھا کالا ندی کنارے تک پیروں کے سارے نشان سلامت تھے پار ندی کے کچھ بھی نہیں تھا پار ندی کے کچھ بھی نہیں ہے ساری راہیں ندیا کے اندر جاتی ہیں اور پھر وہیں کی ہو جاتی ہیں چھوٹے چھوٹے پیر برہنہ ریت کے اوپر پھول ...