تمہارے پھول تازہ ہیں
تمہارے پھول تازہ ہیں مری سب انگلیوں پر اگ رہے ہیں اور یہ شاخیں یہ میری انگلیاں کیسی ہری ہیں ان کی شریانوں میں بہتا رنگ پھولوں کے لبوں سے بہہ رہا ہے قطرہ قطرہ ایک بے موسم کہانی کہہ رہا ہے
تمہارے پھول تازہ ہیں مری سب انگلیوں پر اگ رہے ہیں اور یہ شاخیں یہ میری انگلیاں کیسی ہری ہیں ان کی شریانوں میں بہتا رنگ پھولوں کے لبوں سے بہہ رہا ہے قطرہ قطرہ ایک بے موسم کہانی کہہ رہا ہے
وہ ہنس مکھ اور حسیں لڑکی جو اب تک مجھ میں زندہ ہے نہیں بدلی ہے وہ اب تک اسی فطرت میں روشن ہے اسی حیرت میں زندہ ہے گزرتے وقت کے ہم رہ بہت منظر بدلتے ہیں ہوا کے رخ بدلتے ہیں ہماری ذات کے یوں تو سبھی موسم بدلتے ہیں نہیں بدلی ہے وہ اب تک وہ ہنس مکھ اور حسیں لڑکی مگر میں جانتی کب ہوں وہ ...
قید الفت کا مزہ زلف گرہ گیر میں ہے بس یہی رنگ مرے خواب کی تعبیر میں ہے میٹھی میٹھی سی کسک اس کے بھی دل میں ہوگی ہلکی ہلکی سی کھنک پاؤں کی زنجیر میں ہے اس کو تحقیر کی نظروں سے نہ دیکھو یارو رنگ کردار کا پنہاں مری تصویر میں ہے کو بہ کو ایک تجسس لئے پھرتا ہے مجھے اب یہ دریوزہ گری ہی ...
خلش ہے خواب ہے آدھی کہانی ہے ہماری بات تو بس آنی جانی ہے سمندر سے تمہیں وحشت ہے کیوں اتنی اسے چھو کر تو دیکھو صرف پانی ہے میں کچھ بھی پوچھ لوں کیا فرق پڑتا ہے تمہیں تو بات ہی کوئی بنانی ہے ذرا بتلاؤ تم کس کس سے ملتے ہو تمہارے شہر میں کتنی گرانی ہے تمہیں دنیا سے مطلب ہے مجھے تم ...
کیا ہوا کوئی سوچتا بھی نہیں اور کہنے کو کچھ ہوا بھی نہیں جیسے گم ہو گئی شناخت مری اب کوئی مجھ کو ڈھونڈھتا بھی نہیں جس سے رہنے لگے گلے مجھ کو وہ ابھی مجھ کو جانتا بھی نہیں ایسا خاموش بھی نہیں لگتا اور کچھ منہ سے بولتا بھی نہیں چاہتا ہے جواب بھی سارے اور کچھ مجھ سے پوچھتا بھی ...
میں اپنی کھوج میں گم تھی کہ میں کیا ہوں ازل کے حادثے کا سلسلہ ہوں یا فقط مٹی کی مورت ہوں مسخر کرنے والا ذہن ہوں احساس کی دھیمی سجل آواز ہوں یا اپنے خالق کی کوئی ایسی ادا ہوں جو اسے خود بھا گئی ہے تمہیں پایا تو یہ جانا کہ میرا بھی کوئی مفہوم ہوگا تمہیں کھو کر مرے مفہوم کی صورت نکھر ...
گئی رتوں کی کہانیاں ہیں نشانیاں ہیں وہی کھنڈر ہے وہی تماشائے عہد رفتہ یہ خم نیا ہے علم نیا ہے نئے سوالوں کی بات کیجے جواب دیجے کہ آنے والے سمے کا آئینہ آپ کو بھی اسی طرح منعکس کرے گا
اندھیرے سے کشید صبح کی روشن گواہی مانگنے سے رات کے لمحے نہ گھٹتے ہیں نہ بڑھتے ہیں کبھی گہرے بھنور کے بیچ اٹھتی دوریوں کی دھند میں لپٹی کسی کی ساحلی آواز دریا کا کنارا بھی نہیں ہوتی دکھوں کی اپنی اک تفسیر ہوتی ہے جو اپنے لفظ خود ایجاد کرتی ہے جو خوابوں سے الجھتی ہے جو خوابوں سے ...
دریا کی روانی وہی دہشت بھی وہی ہے اور ڈوبتے لمحات کی صورت بھی وہی ہے الفاظ بھی لکھے ہیں وہی نوک قلم نے اوراق پہ پھیلی ہوئی رنگت بھی وہی ہے کیوں اس کا سراپا نہ ہوا نقش بہ دیوار جب میں بھی وہی ہوں مری حیرت بھی وہی ہے کیوں برف سی پڑتی ہے کہیں شہر دروں پر جب مژدۂ خورشید میں حدت بھی ...
مثال عکس مرے آئنے میں ڈھلتا رہا وہ خد و خال بھی اپنے مگر بدلتا رہا میں پتھروں پہ گری اور خود سنبھل بھی گئی وہ خامشی سے مرے ساتھ ساتھ چلتا رہا اجالا ہوتے ہی کیسے اسے بجھاؤں گی اگر چراغ مرا تا بہ صبح جلتا رہا میں اس کے معنی و مقصد کے سنگ چنتی رہی وہ ایک حرف جو احساس کو کچلتا ...