مجھ کو اتار حرف میں جان غزل بنا مجھے
مجھ کو اتار حرف میں جان غزل بنا مجھے میری ہی بات مجھ سے کر میرا کہا سنا مجھے رخش ابد خرام کی تھمتی نہیں ہیں بجلیاں صبح ازل نژاد سے کرنا ہے مشورہ مجھے لوح جہاں سے پیشتر لکھا تھا کیا نصیب میں کیسی تھی میری زندگی کچھ تو چلے پتہ مجھے کیسے ہوں خواب آنکھ میں کیسا خیال دل میں ہو خود ہی ...