ناؤ دریا میں چلے سامنے منجدھار بھی ہو
ناؤ دریا میں چلے سامنے منجدھار بھی ہو ڈوب جانے کے لئے ہر کوئی تیار بھی ہو کیسے روکے گا سفر میں کوئی رستہ جب کہ دل میں اک جوش بھی ہو پاؤں میں رفتار بھی ہو ساری امیدیں اسی ایک سہارے کی طرف ناامیدی کے سفر میں وہی دیوار بھی ہو ہر طرف سے نئے الزام کی بارش مجھ پر اپنے ہونے کا یہ ...