رکھا ہے بزم میں اس نے چراغ کر کے مجھے
رکھا ہے بزم میں اس نے چراغ کر کے مجھے ابھی تو سننا ہے افسانے رات بھر کے مجھے یہ بات تو مرے خواب و خیال میں بھی نہ تھی ستائیں گے در و دیوار میرے گھر کے مجھے میں چاہتا تھا کسی پیڑ کا گھنا سایہ دعائیں دھوپ نے بھیجی ہیں صحن بھر کے مجھے وہ میرا ہاتھ تو چھوڑیں کہ میں قدم موڑوں بلا رہے ...