دیکھو تو کچھ زیاں نہیں کھونے کے باوجود
دیکھو تو کچھ زیاں نہیں کھونے کے باوجود ہوتا ہے اب بھی عشق نہ ہونے کے باوجود شاید یہ خاک میں ہی سمانے کی مشق ہو سوتا ہوں فرش پر جو بچھونے کے باوجود کرتا ہوں نیند میں ہی سفر سارے شہر کا فارغ تو بیٹھتا نہیں سونے کے باوجود ہوتی نہیں ہے میری تسلی کسی طرح رونے کا انتظار ہے رونے کے ...