چلو اتنی تو آسانی رہے گی
چلو اتنی تو آسانی رہے گی ملیں گے اور پریشانی رہے گی اسی سے رونق دریائے دل ہے یہی اک لہر طوفانی رہے گی کبھی یہ شوق نامانوس ہوگا کبھی وہ شکل انجانی رہے گی نکل جائے گی صورت آئنے سے ہمارے گھر میں حیرانی رہے گی سبک سر ہو کے جینا ہے کوئی دن ابھی کچھ دن گراں جانی رہے گی سنوگے لفظ میں ...