زمیں پہ ایڑی رگڑ کے پانی نکالتا ہوں
زمیں پہ ایڑی رگڑ کے پانی نکالتا ہوں میں تشنگی کے نئے معانی نکالتا ہوں وہی بر آمد کروں گا جو چیز کام کی ہے زباں کے باطن سے بے زبانی نکالتا ہوں فلک پہ لکھتا ہوں خاک خوابیدہ کے مناظر زمین سے رنگ آسمانی نکالتا ہوں کبھی کبوتر کی طرح لگتا ہے ابر مجھ کو کبھی ہوا سے کوئی کہانی نکالتا ...