پل پل جینے کی خواہش میں کرب شام و سحر مانگا
پل پل جینے کی خواہش میں کرب شام و سحر مانگا سب تھے نشاط نفع کے پیچھے ہم نے رنج ضرر مانگا اب تک جو دستور جنوں تھا ہم نے وہی منظر مانگا صحرا دل کے برابر چاہا دریا آنکھوں بھر مانگا دیکھنا یہ ہے اپنے لہو کی کتنی اونچی ہے پرواز ایسی تیز ہوا میں ہم نے کاغذ کا اک پر مانگا ابر کے احساں ...