پکارے جا رہے ہو اجنبی سے چاہتے کیا ہو
پکارے جا رہے ہو اجنبی سے چاہتے کیا ہو خود اپنے شور میں گم آدمی سے چاہتے کیا ہو یہ آنکھوں میں جو کچھ حیرت ہے کیا وہ بھی تمہیں دے دیں بنا کر بت ہمیں اب خامشی سے چاہتے کیا ہو نہ اطمینان سے بیٹھو نہ گہری نیند سو پاؤ میاں اس مختصر سی زندگی سے چاہتے کیا ہو اسے ٹھہرا سکو اتنی بھی تو ...