کیا سے کیا آخر جنون فتنہ ساماں بن گیا
کیا سے کیا آخر جنون فتنہ ساماں بن گیا برق و طوفاں بن گیا باغ و بہاراں بن گیا کل تلک جس خواب کی تعبیر رقص و رنگ تھی اب وہ خواب زندگی خواب پریشاں بن گیا چل رہی تھی سانس جب تک راز اندر راز تھا اور جب تار نفس ٹوٹا تو طوفاں بن گیا خون دل کا ایک قطرہ ایک حرف ناتمام پڑھنے والوں کے لئے ...