سفر میں خاک ہوئے کارواں بناتے ہوئے
سفر میں خاک ہوئے کارواں بناتے ہوئے زمین جلنے لگی آسماں بناتے ہوئے کوئی بھی حرف دعا رائیگاں نہیں جاتا میں اس یقین پہ پہنچی گماں بناتے ہوئے تحفظ در و دیوار کار مشکل ہے جھلس گیا ہے بدن سائباں بناتے ہوئے عجیب لوگ تھے نفرت میں پائمال ہوئے محبتوں کی زمیں بے نشاں بناتے ہوئے لہو ...