زندگی یوں بھی کبھی مجھ کو سزا دیتی ہے
زندگی یوں بھی کبھی مجھ کو سزا دیتی ہے ایک تصویر کتابوں سے گرا دیتی ہے آپ اچھے ہیں برے ہیں کہ فقط بار حیات فیصلہ خلق خدا خود ہی سنا دیتی ہے کتنے نادیدہ مناظر سے اٹھاتی ہے نقاب رات آتی ہے تو خوابوں کو جگا دیتی ہے اب بھی محراب تمنا میں کسک ماضی کی شام ہوتے ہی کوئی شمع جلا دیتی ...