یادیں
عہد ماضی کے جھروکوں سے چلی آتی ہیں مسکراتی ہوئی یادیں میری گنگناتی ہوئی یادیں میری اور محسوس یہ ہوتا ہے مجھے جیسے بنجر سی زمیں قطرۂ ابر گہر بار سے شاداب بنی جیسے صحرا میں بھٹکتے ہوئے اک راہی کو چشمۂ آب ملا جیسے پامال تمنائیں ترشح پا کر پھر تر و تازہ ہوئیں جیسے ترسیدہ ...