دھوپ تھے سب راستے درکار تھا سایہ ہمیں
دھوپ تھے سب راستے درکار تھا سایہ ہمیں اک سراب خوش نما نے اور ترسایا ہمیں دل زمیں پر اس کا چہرہ نقش ہو کر رہ گیا بارہا پھر آئنے نے خود ہی ٹھکرایا ہمیں دھوپ صحرا دھول دریا خار رستوں کی چبھن منزلوں کے شوق نے کیا کیا نہ دکھلایا ہمیں مسترد کرتا گیا ہے دل ربا چہروں کو دل بعد اس کے ...