شاعری

پرندے

باغوں میں جب اشجار پہ گاتے ہیں پرندے موسم کا کوئی جشن مناتے ہیں پرندے کہسار پہ جب چلتی ہیں یخ بستہ ہوائیں مل کر سوئے میداں اتر آتے ہیں پرندے اڑ جاتے ہیں پھر وادیٔ کہسار کی جانب میداں میں کڑی دھوپ جو پاتے ہیں پرندے چنتے ہیں مکاں پھونس کے بے خانماں کچھ لوگ یا گھونسلے تنکوں کے بناتے ...

مزید پڑھیے

بچوں کا پیغام وطن کے نام

ہم صلح و مروت کا جب ہاتھ بڑھا دیں گے اک عمر کے روٹھوں کو آپس میں ملا دیں گے ملا و برہمن اب مایوس نہ ہوں ہرگز ہم مسجد و مندر کے جھگڑوں کو چکا دیں گے کیوں دکھ ہو غریبوں کو ہم کس لئے ہیں آخر جو ان کو ستائیں گے ہم ان کو مٹائیں گے آپس کی عداوت سے ہر ڈوبتی کشتی کو احسان و مروت سے ہم پار لگا ...

مزید پڑھیے

ذہن پریشاں ہو جاتا ہے اور بھی کچھ تنہائی میں

ذہن پریشاں ہو جاتا ہے اور بھی کچھ تنہائی میں تازہ ہو جاتی ہیں چوٹیں سب جیسے پروائی میں اس کو تو جانا تھا لیکن میرا کیوں یہ حال ہوا انگنائی سے کمرے میں اور کمرے سے انگنائی میں اس کے دل کا بھید اسی کی آنکھوں سے مل سکتا تھا کس میں ہمت ہے جو اترے جھیلوں کی گہرائی میں ایک ہی گھر کے ...

مزید پڑھیے

ہم جو گر کر سنبھل جائیں گے

ہم جو گر کر سنبھل جائیں گے راستے خود بدل جائیں گے قہقہوں کو ذرا روکئے ورنہ آنسو مچل جائیں گے دوستوں کے ٹھکانے بہت آستینوں میں پل جائیں گے نور ہم سے طلب تو کرو ہم چراغوں میں ڈھل جائیں گے آئینوں سے نہ روٹھا کرو ورنہ چہرے بدل جائیں گے دیکھیے مجھ کو مت دیکھیے لوگ دیکھیں گے جل ...

مزید پڑھیے

پھر گھڑی آ گئی اذیت کی

پھر گھڑی آ گئی اذیت کی اس کی یادوں نے پھر شرارت کی جب کھلیں گتھیاں حقیقت کی دھجیاں اڑ گئیں شرافت کی سچ بتاؤ کبھی ہوا ایسا سچ بتاؤ کبھی شکایت کی خود سے اپنا مزاج بھی پوچھوں گر میسر گھڑی ہو فرصت کی کتنے چہروں کے رنگ زرد پڑے آج سچ بول کر حماقت کی سچ سے ہرگز گریز مت کرنا ہے اگر ...

مزید پڑھیے

مجھ سے بڑھ کر ہے کہیں ان کا مقام اے ساقی

مجھ سے بڑھ کر ہے کہیں ان کا مقام اے ساقی مست رہتے ہیں جو بے بادۂ و جام اے ساقی قطرے قطرے کو پھریں تیرے سبو کش لاچار ہے یہ کس کے لیے غیرت کا مقام اے ساقی مرحمت سے تری ہو جائیں نہ میکش بددل سنگ دل ہے تری محفل کا نظام اے ساقی زیبؔ بھی عرض حقیقت میں ہے اکثر محتاط اہل محفل میں یہ احساس ...

مزید پڑھیے

خود کو دنیا میں جو راضی بہ رضا کہتے ہیں

خود کو دنیا میں جو راضی بہ رضا کہتے ہیں اپنی ہستی سے وہ اک بات سوا کہتے ہیں موت آتی ہے تو اک فرض ادا ہوتا ہے ان کو دھوکا ہے قضا کو جو قضا کہتے ہیں درد دل کو تری یک گونہ مراعات سے ہے نکتہ چیں اس کو بھی انداز جفا کہتے ہیں حرم و دیر ہوئے ترک عمل سے رسوا دیکھیے اہل عقیدت اسے کیا کہتے ...

مزید پڑھیے

خاک پر ہی مرے آنسو ہیں نہ دامن میں کہیں (ردیف .. ا)

خاک پر ہی مرے آنسو ہیں نہ دامن میں کہیں جو تری راہ میں کھویا گیا پایا نہ گیا سبب خندۂ گل گل کو نہیں خود معلوم اس طرح کوئی بھی دیوانہ بنایا نہ گیا مختلف نغمہ سے ہے قلب مغنی کا راز جو لب ساز پہ بھی بزم میں لایا نہ گیا رکھ دیا خلق نے نام اس کا قیامت اے زیبؔ کوئی فتنہ جو زمانے سے ...

مزید پڑھیے

ایک نرالا کھیل

آؤ تمہیں اک کھیل بتائیں چھوٹا سا اک گاؤں بسائیں اس میں کھیت اور باغ لگائیں جب ان باغوں میں پھل آئیں سب آپس میں بانٹ کے کھائیں آؤ تمہیں اک کھیل بتائیں حکم ہوا اس گاؤں کے اندر دھرتی کا مالک ہے ایشور راجہ کساں سب اس کے چاکر سب اس آگے سیس نوائیں آؤ تمہیں اک کھیل بتائیں مل کر کر دیں حکم ...

مزید پڑھیے

آوازیں

افلاک کے تاروں میں جلتی بجھتی ہوئی کچھ آوازیں ہیں کہسار کے پھولوں میں بکھری بہکی ہوئی کچھ آوازیں ہیں ہے موسم گل کی آمد سے اشکال چمن میں تبدیلی یا مرغ سحر کی گلشن میں بدلی ہوئی کچھ آوازیں ہیں زردار کی ہر آواز میں ہے بپھری ہوئی صورت کا نقشہ مزدور نحیف و بے چارے سہمی ہوئی کچھ آوازیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 195 سے 5858