پرندے
باغوں میں جب اشجار پہ گاتے ہیں پرندے موسم کا کوئی جشن مناتے ہیں پرندے کہسار پہ جب چلتی ہیں یخ بستہ ہوائیں مل کر سوئے میداں اتر آتے ہیں پرندے اڑ جاتے ہیں پھر وادیٔ کہسار کی جانب میداں میں کڑی دھوپ جو پاتے ہیں پرندے چنتے ہیں مکاں پھونس کے بے خانماں کچھ لوگ یا گھونسلے تنکوں کے بناتے ...