قناعت عمر بھر کی گھر کے بام و در پہ رکھی تھی
قناعت عمر بھر کی گھر کے بام و در پہ رکھی تھی میں زیر آسماں تھا دھوپ میرے سر پہ رکھی تھی تعجب کیا جو اب بھی ڈھونڈتے ہیں سنگ در کوئی کہ ہم نے ابتدا تہذیب کی پتھر پہ رکھی تھی وہی چہرے لہو کی گرم بازاری میں شامل تھے جنہوں نے اپنی گردن بڑھ کے خود خنجر پہ رکھی تھی میں عاشق ہوں بدل ڈالا ...