اپنا حق ہی مانگ رہے ہیں تم سے ہم (ردیف .. ن)
اپنا حق ہی مانگ رہے ہیں تم سے ہم ہم نے تم سے مانگی کچھ خیرات نہیں تبدیلی تو ہم میں بھی آئی ہے ذرا تم میں بھی اب پہلے جیسی بات نہیں
اپنا حق ہی مانگ رہے ہیں تم سے ہم ہم نے تم سے مانگی کچھ خیرات نہیں تبدیلی تو ہم میں بھی آئی ہے ذرا تم میں بھی اب پہلے جیسی بات نہیں
ترا خیال ہے اب چشم تر کا زاویہ دیکھ ترے بغیر بھی زندہ ہوں میرا حوصلہ دیکھ ادھر ستم کی ہوا حوصلوں کے دیپ ادھر میان باطل و حق ہے بپا جو معرکہ دیکھ دلوں کے کھیل میں رسوائی بھی ہے غم بھی ہیں یہ پہلے سوچ لے پھر کر کوئی معاہدہ دیکھ دل و نگاہ میں رکھ صرف منزل مقصود کیا ہے عزم سفر کا تو ...
ہمارا پھر کبھی پیچھا کرو گے ہمیں چھپ چھپ کے پھر دیکھا کرو گے اگر کچھ دن نظر آئے نہ تم کو ہمارا تم کبھی پوچھا کرو گے ہمیں تم ڈھونڈھنے گھر سے اکیلے ہماری کھوج میں نکلا کرو گے بچھڑ جائیں اگر ہم تم اچانک ہمارے بعد کیا تنہا کرو گے اگر یہ سوچ بھی ہو جائے پوری تو اس کے بعد کیا سوچا ...
ہم نے سوچا تھا بہاروں میں کھلے گا گلشن زندگانی کی کڑی دھوپ ہے آنگن آنگن پھول مرجھائے ہیں منہ بند ہیں ساری کلیاں خالی خالی ہے یہاں آج بھی دامن دامن کتنا روکش تھا یہ سپنوں کا حسین تاج محل نیند ٹوٹی ہے تو دھندلایا ہے درپن درپن کتنے بے باک ارادوں سے اٹھائے تھے قدم کتنا افسردہ سا ...
کائنات حسن میں اک برہمی پاتی ہوں میں زندگی میں زندگی ہی کی کمی پاتی ہوں میں دیکھیے یوں چھو نہ لیجے دل کے تاروں کو مرے آپ کی الجھی نگاہوں سے بھی گھبراتی ہوں میں زخم دل زخم جگر کی بات پھر سے چھیڑئیے ساز کے دل کش سروں پر اب غزل گاتی ہوں میں یہ گراں باریٔ منزل یہ تمنائے حسیں آپ کی ...
موسم ہے سازگار غزل کہہ رہے ہیں ہم دل پر ہے اختیار غزل کہہ رہے ہیں ہم ذوق جنوں مآل خرد کچھ نہ پوچھئے دامن ہے تار تار غزل کہہ رہے ہیں ہم اپنی غزل ہے شاہد معنی بہار کی پروردۂ بہار غزل کہہ رہے ہیں ہم کہتے ہیں چشم نم سے غزل میں ہے زندگی شاید ہی دل فگار غزل کہہ رہے ہیں ہم گلشن میں اب ...
گلشن میں ابھی جشن کا ہنگام نہیں ہے گردش میں ابھی گردش ایام نہیں ہے پھینکی تو ہیں ہم نے بھی ستاروں پہ کمندیں پرواز ابھی اپنی لب بام نہیں ہے ہر گوشہ چمن کا مجھے مقتل سا لگا ہے ڈھونڈے سے بھی قاتل کا کہیں نام نہیں ہے کلیوں کے لبوں پر ابھی پھیکا ہے تبسم پھولوں میں ابھی نامہ و پیغام ...
ساحل سے طبیعت گھبرائی موجوں میں سفینہ چھوڑ دیا جینے کی لگن میں ہم ہی نے جینے کا قرینہ چھوڑ دیا دامن میں لگائی آگ ادھر اب ان کے کرم کو کیا کہئے طوفان کا رخ تھا جس رخ پر کشتی کا ادھر رخ موڑ دیا تھے ساتھ اسیر فصل جنوں راہوں میں نہ جانے کیا گزری کیا کہئے کہ کس نے ساتھ دیا کیا کہئے کہ ...
ایسا ہے کون جو مجھے حق تک رسائی دے دیکھوں جسے بھی خوف زدہ سا دکھائی دے اپنے ہیں شہر بھر میں پرایا کوئی نہیں پھر بھی ہمارا دل ہے جو تنہا دکھائی دے تخصیص کوئی ظالم و مظلوم کی نہیں کوئی دہائی دے بھی تو کس کی دہائی دے ہمدرد ہوں غیور ہوں اور پرخلوص ہوں اے کارساز بہنوں کو اب ایسے ...
کچھ خاص نہیں ہے وہی روز و شب ہیں ہر دن نیا دن ہے اور دن گزر جانا ہے اوہ بچے اسکول سے آنے والے ہیں اور بچوں کے لیے لنچ بھی بنانا ہے صبح ناشتے میں میں گھن چکر بنی ہوتی ہوں ٹائم کی کمی ناشتہ ادھورا چھوڑ جانے کا اچھا بہانا ہے ارے یاد ہی نہ رہا ساس کی دوا ختم ہونے والی ہے اور کچن کا کچھ ...