شاعری

یہ ایک محبت ہے

شاید یہ ایک طویل خط کا خلاصہ ہے جو تم تک نہیں پہنچ سکے گا ایک نا مکمل کہانی کا اقتباس جسے تم نہیں سن سکو گے شاید یہ تمہارے لیے لکھی جانے والی تقریر کا ابتدائی حصہ ہے یا اس گیت کے بول جو صرف المیہ موقعوں پر گایا جاتا ہے یا وہ پیغام جسے ساری دنیا میں بار بار دہرایا جاتا ہے یہ آنسو ہے ...

مزید پڑھیے

نظم

بہار آنے سے پہلے شہر کا موسم بدلتا ہے جہان رنگ و بو کے ساتھ کل عالم بدلتا ہے دل و جاں جز بہ جز یا سر بہ سر تبدیل ہوتے ہیں مسافر راستے اور ہم سفر تبدیل ہوتے ہیں جہاں اک گھر تھا پہلے اب کسی کا گھر نہیں ہوگا بہار آنے سے پہلے کا کوئی منظر نہیں ہوگا

مزید پڑھیے

آخری خواہش

نظموں کی کتاب میں لوگوں کو اس کی آخری خواہش ملی اس نے لکھا تھا میری آنکھیں اس گلو کار کو دے دینا جو اپنے مداح اور رنگ دیکھنا چاہتا ہو اور میرا دل اس مجسمہ ساز کے لیے ہے جو اپنا دل کسی مجسمے میں رکھ کے بھول گیا ہو میرے ہاتھ اس ملاح کی امانت ہیں جس کے ہاتھ ان دنوں کاٹ دئیے گئے تھے جب ...

مزید پڑھیے

آپ کیا کرتے ہیں

آپ کیا کرتے ہیں میں درخت لگاتا ہوں ہر رات ایک نیا درخت صبح ہونے تک آسمان سے جا لگتا ہے میرا درخت اب تک تو جنگل بن گیا ہوگا ہاں کئی جنگل ہیں سب کے سب آسمان سے ملے ہوئے مگر کسی میں دھوپ نہیں ہوتی اور جانور اور پرندے وہ کیا کرتے ہیں سب ہیں بیٹھے رہتے ہیں ایک ہی درخت کے نیچے جو میں نے ...

مزید پڑھیے

ایک لڑکی نے آئینہ دیکھا

ایک لڑکی نے آئینہ دیکھا آئینے میں کھلے ہوئے تھے پھول آئینے میں چراغ جلتے تھے آئینہ ایک رہ گزر تھا جہاں خواب خوابوں کے ساتھ چلتے تھے آئینے میں بنا ہوا تھا باغ باغ میں شام ہونے والی تھی (شام کے پھیلتے اندھیرے میں لڑکیاں باغ میں نہیں جاتیں) آئینے میں نہ تھا کوئی دریا آئینے میں نہ ...

مزید پڑھیے

(14)

سنا ہے میں نے کہ اب ستارے تمہاری دہلیز سے گزر کر بکھرنے لگتے ہیں آسماں پر ازل سے آباد اس جہاں پر سنا ہے میں نے کہ کچھ پرندے ہوا سے محروم بادباں پر تمہاری آنکھوں کے سامنے سے گزر کے دن رات بیٹھتے ہیں گلی میں فٹ پاتھ کے کنارے سنا ہے کچھ پھول کھل اٹھے ہیں جنہیں کوئی توڑتا نہیں ہے سڑک ...

مزید پڑھیے

نظم

چھوٹی سی عورت تاریک گھر میں یا رہگزر میں کب سے کھڑی ہے اتنے دنوں سے یہ اپنے من میں کیا ہے چھپائے یہ اپنے دکھ سکھ کس کو بتائے یہ اپنی باتیں کس کو سنائے آنکھوں میں اس کی آج اور کل کے سپنے بھرے ہیں ہاتھوں میں اس کے جیون ہے سب کا دیکھے تو کوئی چھوٹی سی عورت سارے جہاں میں سب سے بڑی ہے

مزید پڑھیے

زیتون کا درخت

میرے پاس کوئی باغ نہیں ہے دوست کچھ ادھورے خواب ایک بالکنی اور دو تین گملے ہیں جو مجھے دنیا میں درختوں کے باقی رہنے کی وجوہات بتاتے ہیں اور جنگلوں کو جلا دئیے جانے کی خبریں پہنچاتے ہیں میری بہن میرے کمزور پیروں میں زیتون کے تیل سے جان ڈالنے کی کوشش کرتی ہے ماں ہوتی تو وہ بھی یہی ...

مزید پڑھیے

سینٹ اسامہ

سینٹ اسامہ اب روزانہ نو سے گیارہ اپنے پیارے مداحوں سے تورا بورا کے غاروں یا دار الحرب میں ملتے ہیں جہاں بھی وہ جا کے ٹھہرے ہیں گانے پر پابندی ہے پھول لگانے اور تصویر اتروانے پر پابندی ہے عورتیں نامحرم کے ساتھ نظر آئیں تو کوڑے اور پتھر مارے جائیں گے امریکہ کے گن گانے والوں ...

مزید پڑھیے

(29)

خواب جیسی کہیں کہیں شاید زندگی ہے مگر نہیں شاید میں اکیلا ہوں اور لگتا ہے جیسے تو ہے ابھی یہیں شاید جس محبت کا ہے گماں مجھ کو اس پہ تجھ کو بھی ہے یقیں شاید نظم جیسا ہے آسماں میرا گیت جیسی تری زمیں شاید میں تجھے بھول جانا چاہتا ہوں میں تجھے یاد آنا چاہتا ہوں

مزید پڑھیے
صفحہ 170 سے 5858