شاعری

روم

میں جاننا چاہتا ہوں جب روم جل رہا تھا تب وہاں کون کون لوگ موجود تھے کس شخص کے کان بانسری کی آواز پر لگے ہوئے تھے اور کس شخص کی آنکھیں آگ کی روشنی میں چمک رہی تھیں میں جاننا چاہتا ہوں کون لوگ نیرو کی نے نوازی کی داد دے رہے تھے اور کون آگ کے شعلوں کو ہوا کتنے آرام دہ گھر اس آگ کی نذر ...

مزید پڑھیے

چڑیوں کا شور

سفید کاغذ پر پنسل کے چلنے کی آواز بہت کم ہے سڑک پر ٹینک گزرنے کی آواز اس سے کچھ زیادہ ہے اور شاید میری آواز ان دونوں آوازوں سے زیادہ ہے مگر سب سے زیادہ ہے چڑیوں کا شور بڑھتا ہی رہتا جب ایک شکاری آتا ہے ہوا میں بندوق چلاتا ہے ایک چڑیا خوف سے مر جاتی ہے باقی شور مچاتی ہیں چڑیوں کا ...

مزید پڑھیے

ریلوے لائن پر مور

ریلوے لائن پر مور سو رہا ہے تیز رفتار ٹرین یہاں سے مت گزرو لائن مین سے کہو کانٹا بدل دے تمہارا راستہ تبدیل ہو جائے گا یا پھر ایک سرخ لالٹین ریلوے لائن کے ساتھ رکھ دے کسی نہ کسی طرح تمہیں روک لے ریلوے لائن پر مور سو رہا ہے اسے اس کے خواب سے باہر مت نکالو وہ اپنے خواب میں کسی نئے ...

مزید پڑھیے

نظم

کسی دن تیز بارش میں اگر ہم بھیگ جائیں تو رگ و پے میں محبت کو سمو لینا ضروری ہے کسی کی یاد میں آنکھیں بھگو لینا ضروری ہے بدن مٹی کی خوشبو میں ڈبو لینا ضروری ہے گھنے ریشم کی ڈوری میں پرو لینا ضروری ہے اگر یہ ساری باتیں وقت پر تکمیل پا جائیں تو پھر بارش میں اس کے ساتھ ہو لینا ضروری ...

مزید پڑھیے

کتابی کیڑے

ایک نظم سے دوسری نظم تک جانے میں وہ زیادہ وقت نہیں لیتے اگر کہیں لکھا ہوا ہو دریا اور اس کے بعد کوئی پل نہ ہو تب انہیں کوئی نہیں روک سکتا وہ بہت تیز تیز چلتے ہوئے سدا بہار پھولوں کے ناموں سے خزاں میں گرنے والے آخری پتے تک جا پہنچتے ہیں اگر ہماری نظموں کا شاعر کسی کہانی میں اپنی ...

مزید پڑھیے

یوں بولی تھی چڑیا خالی کمرے میں

یوں بولی تھی چڑیا خالی کمرے میں جیسے کوئی نہیں تھا خالی کمرے میں ہر پل میرا رستہ دیکھا کرتا ہے جانے کس کا سایہ خالی کمرے میں کھڑکی کے رستے سے لایا کرتا ہوں میں باہر کی دنیا خالی کمرے میں ہر موسم میں آتے جاتے رہتے ہیں لوگ ہوا اور دریا خالی کمرے میں چہروں کے جنگل سے لے کر آیا ...

مزید پڑھیے

ایسا لگتا ہے جیسے پوری ہے

ایسا لگتا ہے جیسے پوری ہے یہ کہانی مگر ادھوری ہے ہجر تو خیر اس کا لازم تھا وصل بھی اب بہت ضروری ہے میری آنکھوں کے جرم میں شامل ان نگاہوں کی بے قصوری ہے میرے الفاظ ہو رہے ہیں خرچ قوم کی مفت میں مشہوری ہے یوں مرا تاج و تخت چھین لیا جیسے وہ شیر شاہ سوری ہے ان دنوں اس کے سامنے دل ...

مزید پڑھیے

دل مضطرب ہے اور پریشان جسم ہے

دل مضطرب ہے اور پریشان جسم ہے اس کے بغیر بے سر و سامان جسم ہے اب ہو نہیں سکے گا مداوا کسی طرح وہ جو کہیں نہیں ہے تو بے جان جسم ہے دل تو جنوں کے کھیل میں مصروف ہے مگر اس کی نوازشات پہ حیران جسم ہے میں نے بنا دیا ہے جسے عشق میں غزل دل اس کا ہے بیاض تو دیوان جسم ہے اب اس کے غم سے مجھ ...

مزید پڑھیے

جو میرے بس میں ہے اس سے زیادہ کیا کرنا

جو میرے بس میں ہے اس سے زیادہ کیا کرنا سفر تو کرنا ہے اس کا ارادہ کیا کرنا بس ایک رنگ ہے دل میں کسی کے ہونے سے اب اپنے آپ کو اس سے بھی سادہ کیا کرنا جب اپنی آگ ہی کافی ہے میرے جینے کو تو مہر و ماہ سے بھی استفادہ کیا کرنا ترے لبوں کے سوا کچھ نہیں میسر جب سو فکر ساغر و ساقی و بادہ کیا ...

مزید پڑھیے

محبت کا جنم دن

آج محبت کا جنم دن ہے آج ہم اداسی کی چھری سے اپنے دل کو کاٹیں گے آج ہم اپنی پلکوں پر جلتی ہوئی موم بتی رکھ کے ایک تار پر سے گزریں گے ہمیں کوئی نہیں دیکھے گا مگر ہم ہر بند کھڑکی کی طرف دیکھیں گے ہر دروازے کے سامنے پھول رکھیں گے کسی نہ کسی بات پر ہم روئیں گے اور اپنے رونے پر ہم ہنسیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 171 سے 5858