شاعری

شاعر

اگر مجھے اکیلا نہیں دیکھ سکتے تو رہنے دو اسی طرح اداس یہ تو مت کہو کہ ہمارے کمرے میں رکھی ہوئی سب سے آخری کرسی پر بیٹھ جاؤ یا ہمارے جوتوں کے پاس کھڑے ہو کر مسکراتے رہو یا پرانا فرنیچر چمکانے والی پالش کے لیے ایک نئی نظم لکھ دو میں وعدہ کرتا ہوں کہ کسی بادل کسی پھول کسی ہوا کسی ...

مزید پڑھیے

(8)

اے پرندو کسی شام اڑتے ہوئے راستے میں اگر وہ نظر آئے تو گیت بارش کا کوئی سنانا اسے اے ستارو یونہی جھلملاتے ہوئے اس کا چہرہ دریچے میں آ جائے تو بادلوں کو بلا کر دکھانا اسے اے ہوا جب اسے نیند آنے لگے رات اپنے ٹھکانے پر جانے لگے اس کے چہرے کو چھو کر جگانا اسے خواب سے جب وہ بے دار ...

مزید پڑھیے

نظم

نظم ایک دیوار ہے جس کے پیچھے سے ہم نکلتے ہیں اپنے دشمن کو مارنے اور اسے معاف کر کے واپس آ جاتے ہیں نظم ایک پھول ہے جو کھلتا ہے صرف ہمارے دوستوں اور محبوباؤں کے لیے یا ہمارے پیاروں کی قبر پر اور ہمیشہ کھلا ہی رہتا ہے نظم ایک تمغہ ہے جو دیا جاتا ہے بہادروں کو جنگ سے واپس نہ آنے پر یا ...

مزید پڑھیے

دوست

میں بہت اکیلا ہوں تم مجھ سے دوستی کر لو شہر کہتا ہے اور اپنے ہاتھ ہماری طرف پھیلا دیتا ہے ہم اس کے ہاتھوں کو دیکھتے ہیں اور ڈر جاتے ہیں شہر کے ہاتھ کہنیوں تک جلے ہوئے ہیں ایسی حالت میں کوئی کسی کے ہاتھ بھلا کیسے تھام سکتا ہے کوئی کسی کے ساتھ کیسے دوستی کر سکتا ہے ہم اپنا منہ ...

مزید پڑھیے

خط

شہر خط لکھتا ہے سب سے پہلے تاریخ یعنی جس دن خط لکھا گیا جگہ یعنی جہاں سے خط لکھا گیا اور پھر وقت جس وقت شہر نے یہ خط لکھنا شروع کیا شاید وہ رو رہا تھا نیلی روشنائی سے لکھے گئے لفظ جگہ جگہ سے پھیل گئے ہیں اور کاغذ اتنا خستہ ہے کہ اگر خط زیادہ دیر ڈاک میں رہتا تو شاید لفافے کے اندر ہی ...

مزید پڑھیے

(34)

خدا گر ہمیں اک پرندہ بناتا جہاں میں ہم اک آشیانہ بناتے کسی سبز وادی میں اپنا نشیمن یا صحن چمن کو ٹھکانہ بناتے کبھی اڑتے بادل میں ہوتا بسیرا کبھی ڈالتے کنج وحشت میں ڈیرا کبھی دامن کوہ ہوتا ہمارا کبھی بنتا گھر اک ندی کا کنارا کبھی گیت گاتے گھٹاؤں کے نیچے کبھی ہوتے پاگل ہواؤں کے ...

مزید پڑھیے

ایک منظر کی خاموشی

بہت دور شہر سے باہر شاید کسی اور شہر میں ایک کمرہ ہے اس کی ساری کھڑکیاں صبح سے کھلی ہوئی ہیں کوئی نہیں ہے جو انہیں بند کر دے یا اس گرد کو صاف کر دے جو دیوار پر لگے پورٹریٹ کو دھندلا کر رہی ہے ہوا نے گزرتے ہوئے کاغذوں کو پیلا کر دیا لوہے کی کرسی پر بیٹھ کے اب کوئی کسی کو یاد نہیں ...

مزید پڑھیے

کہیں بارش ہو چکی ہے

مکان اور لوگ بہت خوش اور نئے نظر آ رہے ہیں راستے اور درخت خود کو دھلا ہوا محسوس کر رہے ہیں پھول اور پرندے تیز دھوپ میں پھیلے ہوئے ہیں خواب اور آوازیں شاید پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں اداسی اور خوشی اوس کی طرح بچھی ہے ایسا لگتا ہے میرے دل سے باہر یا تمہاری آنکھوں کے پاس کہیں بارش ہو ...

مزید پڑھیے

کہانی

میں نے ایک کہانی سوچی ہے میں اسے کبھی نہیں لکھوں گا لکھی ہوئی کہانیاں پڑھ کر لوگ بہت سی باتیں فرض کر لیتے ہیں اور فرضی کہانیاں لکھنی شروع کر دیتے ہیں میں نے یہ کہانی اس سے پہلے کسی سے نہیں سنی کہیں پڑھی نہیں اور فرض بھی نہیں کی اس کے کردار کہانی شروع ہونے سے پہلے یا شاید بعد میں ...

مزید پڑھیے

خودکشی

ایک ایسے سروے کے مطابق جو میرے دوست اپنے دل کو موصول ہونے والی غیر ضروری خبروں کو جمع کر کے مرتب کر رہے ہیں شہر میں کوئی خودکشی نہیں کر رہا محبت میں ناکامی پر فینائل پینے والی لڑکیاں اور نوکری نہ ملنے پر بڑے بھائی کے لائسنس یافتہ پستول سے خودکشی کرنے والے لڑکے بہت دن سے نظر نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 169 سے 5858