شاعری

رات گہری تھی پھر بھی سویرا سا تھا

رات گہری تھی پھر بھی سویرا سا تھا ایک چہرہ کہ آنکھوں میں ٹھہرا سا تھا بے چراغی سے تیری مرے شہر دل وادیٔ شعر میں کچھ اجالا سا تھا میرے چہرے کا سورج اسے یاد ہے بھولتا ہے پلک پر ستارہ سا تھا بات کیجے تو کھلتے تھے جوہر بہت دیکھنے میں تو وہ شخص سادہ سا تھا صلح جس سے رہی میری تا ...

مزید پڑھیے

حرف حرف گوندھے تھے طرز مشکبو کی تھی

حرف حرف گوندھے تھے طرز مشکبو کی تھی تم سے بات کرنے کی کیسی آرزو کی تھی ساتھ ساتھ چلنے کی کس قدر تمنا تھی ساتھ ساتھ کھونے کی کیسی جستجو کی تھی وہ نہ جانے کیا سمجھا ذکر موسموں کا تھا میں نے جانے کیا سوچا بات رنگ و بو کی تھی اس ہجوم میں وہ پل کس طرح سے تنہا ہے جب خموش تھے ہم تم اور ...

مزید پڑھیے

یہ اداسی یہ پھیلتے سائے

یہ اداسی یہ پھیلتے سائے ہم تجھے یاد کر کے پچھتائے مل گیا تھا سکوں نگاہوں کو کی تمنا تو اشک بھر آئے گل ہی اکتا گئے ہیں گلشن سے باغباں سے کہو نہ گھبرائے ہم جو پہنچے تو رہ گزر ہی نہ تھی تم جو آئے تو منزلیں لائے جو زمانے کا ساتھ دے نہ سکے وہ ترے آستاں سے لوٹ آئے بس وہی تھے متاع ...

مزید پڑھیے

دل بجھنے لگا آتش رخسار کے ہوتے

دل بجھنے لگا آتش رخسار کے ہوتے تنہا نظر آتے ہیں غم یار کے ہوتے کیوں بدلے ہوئے ہیں نگۂ ناز کے انداز اپنوں پہ بھی اٹھ جاتی ہے اغیار کے ہوتے ویراں ہے نظر میری ترے رخ کے مقابل آوارہ ہیں غم کوچۂ دل دار کے ہوتے اک یہ بھی ادائے دل آشفتہ سراں تھی بیٹھے نہ کہیں سایۂ دیوار کے ہوتے جینا ...

مزید پڑھیے

رات عجب آسیب زدہ سا موسم تھا

رات عجب آسیب زدہ سا موسم تھا اپنا ہونا اور نہ ہونا مبہم تھا ایک گل تنہائی تھا جو ہمدم تھا خار و غبار کا سرمایہ بھی کم کم تھا آنکھ سے کٹ کٹ جاتے تھے سارے منظر رات سے رنگ دیدۂ حیراں برہم تھا جس عالم کو ہو کا عالم کہتے ہیں وہ عالم تھا اور وہ عالم پیہم تھا خار خمیدہ سر تھے بگولے بے ...

مزید پڑھیے

اس امید پہ روز چراغ جلاتے ہیں

اس امید پہ روز چراغ جلاتے ہیں آنے والے برسوں بعد بھی آتے ہیں ہم نے جس رستے پر اس کو چھوڑا ہے پھول ابھی تک اس پر کھلتے جاتے ہیں دن میں کرنیں آنکھ مچولی کھیلتی ہیں رات گئے کچھ جگنو ملنے جاتے ہیں دیکھتے دیکھتے اک گھر کے رہنے والے اپنے اپنے خانوں میں بٹ جاتے ہیں دیکھو تو لگتا ہے ...

مزید پڑھیے

رشتے سے محافظ کا خطرہ جو نکل جاتا

رشتے سے محافظ کا خطرہ جو نکل جاتا منزل پہ بھی آ جاتے نقشہ بھی بدل جاتا اس جھوٹ کی دلدل سے باہر بھی نکل آتے دنیا میں بھی سر اٹھتا اور گھر بھی سنبھل جاتا ہنستے ہوئے بوڑھوں کو قصے کئی یاد آتے روتے ہوئے بچوں کا رونا بھی بہل جاتا کیوں اپنے پہاڑوں کے سینوں کو جلاتے ہم خطرہ تو محبت کے ...

مزید پڑھیے

برسوں ہوئے تم کہیں نہیں ہو

برسوں ہوئے تم کہیں نہیں ہو آج ایسا لگا یہیں کہیں ہو محسوس ہوا کہ بات کی ہے اور بات بھی وہ جو دل نشیں ہو امکان ہوا کہ وہم تھا سب اظہار ہوا کہ تم یقیں ہو اندازہ ہوا کہ رہ وہی ہے امید بڑھی کہ تم وہیں ہو اب تک مرے نام سے ہے نسبت اب تک مرے شہر کے مکیں ہو

مزید پڑھیے

یہ حکم ہے کہ اندھیرے کو روشنی سمجھو

یہ حکم ہے کہ اندھیرے کو روشنی سمجھو ملے نشیب تو کوہ و دمن کی بات کرو نہیں ہے مے نہ سہی چشم التفات تو ہے نئی ہے بزم طریق کہن کی بات کرو فریب خوردۂ منزل ہیں ہم کو کیا معلوم بہ طرز راہبری راہزن کی بات کرو خزاں نے آ کے کہا میرے غم سے کیا حاصل جہاں بہار لٹی اس چمن کی بات کرو قدم قدم ...

مزید پڑھیے

اپنا ہر انداز آنکھوں کو تر و تازہ لگا

اپنا ہر انداز آنکھوں کو تر و تازہ لگا کتنے دن کے بعد مجھ کو آئینہ اچھا لگا سارہ آرائش کا ساماں میز پر سوتا رہا اور چہرہ جگمگاتا جاگتا ہنستا لگا ملگجے کپڑوں پہ اس دن کس غضب کی آب تھی سارے دن کا کام اس دن کس قدر ہلکا لگا چال پر پھر سے نمایاں تھا دلآویزی کا زعم جس کو واپس آتے آتے کس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 167 سے 5858