شاعری

خوش جو آئے تھے پشیمان گئے

خوش جو آئے تھے پشیمان گئے اے تغافل تجھے پہچان گئے خوب ہے صاحب محفل کی ادا کوئی بولا تو برا مان گئے کوئی دھڑکن ہے نہ آنسو نہ خیال وقت کے ساتھ یہ طوفان گئے تیری ایک ایک ادا پہچانی اپنی ایک ایک خطا مان گئے اس کو سمجھے کہ نہ سمجھے لیکن گردش دہر تجھے جان گئے

مزید پڑھیے

یوں کہنے کو پیرایۂ اظہار بہت ہے

یوں کہنے کو پیرایۂ اظہار بہت ہے یہ دل دل ناداں سہی خوددار بہت ہے دیوانوں کو اب وسعت صحرا نہیں درکار وحشت کے لیے سایۂ دیوار بہت ہے بجتا ہے گلی کوچوں میں نقارۂ الزام ملزم کہ خموشی کا وفادار بہت ہے جب حسن تکلم پہ کڑا وقت پڑے تو اور کچھ بھی نہ باقی ہو تو تکرار بہت ہے خود آئینہ گر ...

مزید پڑھیے

ہمیں تو عادت زخم سفر ہے کیا کہئے

ہمیں تو عادت زخم سفر ہے کیا کہئے یہاں پہ راہ وفا مختصر ہے کیا کہیے جدائیاں تو یہ مانا بڑی قیادت ہیں رفاقتوں میں بھی دکھ کس قدر ہے کیا کہیے حکایت غم دنیا طویل تھی کہہ دی حکایت غم دل مختصر ہے کیا کہیے مجال دید نہیں حسرت نظارہ سہی یہ سلسلہ ہی بہت معتبر ہے کیا کہیے

مزید پڑھیے

بستی میں کچھ لوگ نرالے اب بھی ہیں

بستی میں کچھ لوگ نرالے اب بھی ہیں دیکھو خالی دامن والے اب بھی ہیں دیکھو وہ بھی ہیں جو سب کہہ سکتے تھے دیکھو ان کے منہ پر تالے اب بھی ہیں دیکھو ان آنکھوں کو جنہوں نے سب دیکھا دیکھو ان پر خوف کے جالے اب بھی ہیں دیکھو اب بھی جنس وفا نایاب نہیں اپنی جان پہ کھیلنے والے اب بھی ...

مزید پڑھیے

جو دل نے کہی لب پہ کہاں آئی ہے دیکھو

جو دل نے کہی لب پہ کہاں آئی ہے دیکھو اب محفل یاراں میں بھی تنہائی ہے دیکھو پھولوں سے ہوا بھی کبھی گھبرائی ہے دیکھو غنچوں سے بھی شبنم کبھی کترائی ہے دیکھو اب ذوق طلب وجہ جنوں ٹھہر گیا ہے اور عرض وفا باعث رسوائی ہے دیکھو غم اپنے ہی اشکوں کا خریدا ہوا ہے دل اپنی ہی حالت کا تماشائی ...

مزید پڑھیے

لب پر خموشیوں کو سجائے نظر چرائے

لب پر خموشیوں کو سجائے نظر چرائے جو اہل دل میں بیٹھے ہیں چپ چاپ سر جھکائے کہہ دو کوئی صبا سے ادھر آج کل نہ آئے کلیاں کہیں مہک نہ اٹھیں پھول کھل نہ جائے اب دوستی وہ فن کہ جو سیکھے وہی نبھائے اور ہے وفا تماشا جسے آئے وہ دکھائے کچھ کہنا جرم ہے تو خطا وار میں بھی ہوں یہ اور بات میرا ...

مزید پڑھیے

یہ کیا ستم ہے کوئی رنگ و بو نہ پہچانے

یہ کیا ستم ہے کوئی رنگ و بو نہ پہچانے بہار میں بھی رہے بند تیرے مے خانے فنا کے زمزمے رنج و محن کے افسانے یہی ملے ہیں نئی زندگی کو نذرانے تری نگاہ کی جنبش میں اب بھی شامل ہیں مری حیات کے کچھ مختصر سے افسانے جو سن سکو تو یہ سب داستاں تمہاری ہے ہزار بار جتایا مگر نہیں مانے جو کر ...

مزید پڑھیے

یہ سچ ہے یہاں شور زیادہ نہیں ہوتا

یہ سچ ہے یہاں شور زیادہ نہیں ہوتا گھر بار کے بازار میں پر کیا نہیں ہوتا جبر دل بے مہر کا چرچا نہیں ہوتا تاریکئ شب میں کوئی چہرہ نہیں ہوتا ہر جذبۂ معصوم کی لگ جاتی ہے بولی کہنے کو خریدار پرایا نہیں ہوتا عورت کے خدا دو ہیں حقیقی و مجازی پر اس کے لیے کوئی بھی اچھا نہیں ہوتا شب بھر ...

مزید پڑھیے

چھلک رہی ہے مئے ناب تشنگی کے لئے

چھلک رہی ہے مئے ناب تشنگی کے لئے سنور رہی ہے تری بزم برہمی کے لئے نہیں نہیں ہمیں اب تیری جستجو بھی نہیں تجھے بھی بھول گئے ہم تری خوشی کے لئے جو تیرگی میں ہویدا ہو قلب انساں سے ضیا نواز وہ شعلہ ہے تیرگی کے لئے کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر و وصال ابھی تو لوگ ترستے ہیں زندگی کے ...

مزید پڑھیے

گردش مینا و جام دیکھیے کب تک رہے

گردش مینا و جام دیکھیے کب تک رہے ہم پہ تقاضا حرام دیکھیے کب تک رہے تیرا ستم ہم پہ عام دیکھیے کب تک رہے تلخیٔ دوراں پہ نام دیکھیے کب تک رہے چھا گئیں تاریکیاں کھو گیا حسن نظر وعدۂ دیدار عام دیکھیے کب تک رہے اہل خرد سست رو اہل جنوں تیز گام شوق کا یہ اہتمام دیکھیے کب تک رہے صبح کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 166 سے 5858