شاعری

بھولی بسری یادوں کو لپٹائے ہوئے ہوں

بھولی بسری یادوں کو لپٹائے ہوئے ہوں ٹوٹا جال سمندر پر پھیلائے ہوئے ہوں وحشت کرنے سے بھی دل بیزار ہوا ہے دشت و سمندر آنچل میں سمٹائے ہوئے ہوں وہ خوشبو بن کر آئے تو بے شک آئے میں بھی دست صبا سے ہاتھ ملائے ہوئے ہوں ٹوٹے پھوٹے لفظوں کے کچھ رنگ گھلے تھے ان کی مہندی آج تلک بھی رچائے ...

مزید پڑھیے

کیوں اے غم فراق یہ کیا بات ہو گئی

کیوں اے غم فراق یہ کیا بات ہو گئی ہم انتظار صبح میں تھے رات ہو گئی بہکے ہوئے بھٹکتے ہوئے کارواں کی خیر رہبر سے راہزن کی ملاقات ہو گئی دیوانگی کی خیر نہ مانگیں تو کیا کریں دیوانگی ہی راز عنایات ہو گئی سینوں میں سوز و ساز محبت نہیں رہا دنیا رہین گردش حالات ہو گئی لو ڈوبتوں نے ...

مزید پڑھیے

رونقیں اب بھی کواڑوں میں چھپی لگتی ہیں

رونقیں اب بھی کواڑوں میں چھپی لگتی ہیں محفلیں اب بھی اسی طرح سجی لگتی ہیں روشنی اب بھی درازوں سے امڈ آتی ہے کھڑکیاں اب بھی صداؤں سے کھلی لگتی ہیں ساعتیں جو تری قربت میں گراں گزری تھیں دور سے دیکھوں تو اب وہ بھی بھلی لگتی ہیں اب بھی کچھ لوگ سناتے ہیں سنائے ہوئے شعر باتیں اب بھی ...

مزید پڑھیے

سفر خود رفتگی کا بھی عجب انداز تھا

سفر خود رفتگی کا بھی عجب انداز تھا کہیں پر راہ بھولے تھے نہ رک کر دم لیا تھا زمیں پر گر رہے تھے چاند تارے جلدی جلدی اندھیرا گھر کی دیواروں سے اونچا ہو رہا تھا چلے چلتے تھے رہرو ایک آواز اخی پر جنوں تھا یا فسوں تھا کچھ تو تھا جو ہو رہا تھا میں اس دن تیری آمد کا نظارہ سوچتی تھی وہ ...

مزید پڑھیے

قربتوں سے کب تلک اپنے کو بہلائیں گے ہم

قربتوں سے کب تلک اپنے کو بہلائیں گے ہم ڈوریاں مضبوط ہوں گی چھٹتے جائیں گے ہم تیرا رخ سائے کی جانب میری آنکھیں سوئے مہر دیکھنا ہے کس جگہ کس وقت مل پائیں گے ہم گھر کے سارے پھول ہنگاموں کی رونق ہو گئے خالی گلدانوں سے باتیں کرکے سو جائیں گے ہم ادھ کھلی تکیے پہ ہوگی علم و حکمت کی ...

مزید پڑھیے

ترا خیال فروزاں ہے دیکھیے کیا ہو

ترا خیال فروزاں ہے دیکھیے کیا ہو خموش گردش دوراں ہے دیکھیے کیا ہو نہ جانے کتنے ستارے یہ کہتے ڈوب گئے سحر کا رنگ پریشاں ہے دیکھیے کیا ہو کلی اداس چمن سوگوار گل خاموش یہ انتظار بہاراں ہے دیکھیے کیا ہو عجیب بات ہے ان تیرگی کی راہوں میں نفس نفس میں چراغاں ہے دیکھیے کیا ہو بھڑک ...

مزید پڑھیے

ایک کے گھر کی خدمت کی اور ایک کے دل سے محبت کی

ایک کے گھر کی خدمت کی اور ایک کے دل سے محبت کی دونوں فرض نبھا کر اس نے ساری عمر عبادت کی دست طلب کچھ اور بڑھاتے ہفت اقلیم بھی مل جاتے ہم نے تو کچھ ٹوٹے پھوٹے جملوں ہی پہ قناعت کی شہرت کے گہرے دریا میں ڈوبے تو پھر ابھرے نہیں جن لوگوں کو اپنا سمجھا جن لوگوں سے محبت کی ایک دوراہا ...

مزید پڑھیے

رک جا ہجوم گل کہ ابھی حوصلہ نہیں

رک جا ہجوم گل کہ ابھی حوصلہ نہیں دل سے خیال تنگی داماں گیا نہیں جو کچھ ہیں سنگ و خشت ہیں یا گرد رہگزر تم تک جو آئے ان کا کوئی نقش پا نہیں ہر آستاں پہ لکھا ہے اب نام شہر یار وابستگان دل کے لئے کوئی جا نہیں صد حیف اس کے ہاتھ ہے ہر زخم کا رفو دامن میں جس کے ایک بھی تار وفا نہیں

مزید پڑھیے

اس رہ گزر میں اپنا قدم بھی جدا ملا

اس رہ گزر میں اپنا قدم بھی جدا ملا اتنی صعوبتوں کا ہمیں یہ صلہ ملا اک وسعت خیال کہ لفظوں میں گھر گئی لہجہ کبھی جو ہم کو کرم آشنا ملا تاروں کو گردشیں ملیں ذروں کو تابشیں اے رہ نورد راہ جنوں تجھ کو کیا ملا ہم سے بڑھی مسافت دشت وفا کہ ہم خود ہی بھٹک گئے جو کبھی راستہ ملا

مزید پڑھیے

دیر تک روشنی رہی کل رات

دیر تک روشنی رہی کل رات میں نے اوڑھی تھی چاندنی کل رات ایک مدت کے بعد دھند چھٹی دل نے اپنی کہی سنی کل رات انگلیاں آسمان چھوتی تھیں ہاں مری دسترس میں تھی کل رات اٹھتا جاتا تھا پردۂ نسیاں ایک اک بات یاد تھی کل رات طاق دل پہ تھی گھنگھروؤں کی صدا اک جھڑی سی لگی رہی کل رات جگنوؤں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 165 سے 5858