شاعری

یہاں دلدار بیگم دفن ہے

ایک انجانا سا ڈر جب وہ پیدا ہوئی تھی اس کے اندر جذب تھا ایک اندھیری کوٹھری کا خوف رگ رگ میں بسا تھا ایک اونچائی سے گر جانے کی دہشت پیچھے پیچھے چل رہی تھی ایک دروازے کے پیچھے جا کے چھپ جانے کا شوق زندگی کی سب سے پہلی آرزو تھی کھڑکیوں کی اوٹ سے گلیوں کا منظر دیکھنا زندگی کی سب سے ...

مزید پڑھیے

ڈرو اس وقت سے

ہر طرف دور فراموشی ہے ذہن سہما ہوا بیٹھا ہے کہیں اپنے اطراف حفاظت کی طنابیں گاڑے جب کوئی بات نہیں یاد اس کو پھر یہ دہشت کا سبب کیا معنی اور حفاظت کا جنوں کیسا ہے ڈرو اس وقت سے جب ایسا خوف جس کے اسباب نہیں ملتے ہیں زندگانی میں چلا آتا ہے روح وجدان بھٹک جاتی ہے طرز افکار بدل جاتی ...

مزید پڑھیے

ڈاکو

کل رات مرا بیٹا مرے گھر چہرے پہ منڈھے خاکی کپڑا بندوق اٹھائے آ پہنچا نو عمری کی سرخی سے رچی اس کی آنکھیں میں جان گئی اور بچپن کے صندل سے منڈھا اس کا چہرہ پہچان گئی وہ آیا تھا خود اپنے گھر گھر کی چیزیں لے جانے کو ان کہی کہی منوانے کو باتوں میں دودھ کی خوشبو تھی جو کچھ بھی سینت کے ...

مزید پڑھیے

کل رات ڈھلے

کل رات ڈھلے یہ سوچا میں نے میں اپنے خزانے صاف کر لوں کس کس کا ہے قرض مجھ پہ واجب اس کا بھی ذرا حساب کر لوں الماری کی چابی کھو گئی تھی وہ زنگ بھری پرانی چابی میں نے اسے کونے کونے ڈھونڈا مجھ کو تو نہیں ملی کہیں بھی میں نے جو نظر اٹھا کے دیکھا الماری تو بند ہی نہیں تھی مٹی کی تہوں میں ...

مزید پڑھیے

ہم لوگ جو خاک چھانتے ہیں

ہم لوگ جو خاک چھانتے ہیں مٹی سے گہر نکالتے ہیں ہے شعلۂ دیں کہ شمع کفر پروانے کہاں یہ جانتے ہیں اس گنبد بے صدا میں ہم لوگ الفاظ کے بت تراشتے ہیں اے سایۂ ابر اب تو رک جا اک عمر سے دھوپ کاٹتے ہیں

مزید پڑھیے

جاں دینا بس ایک زیاں کا سودا تھا

جاں دینا بس ایک زیاں کا سودا تھا راہ طلب میں کس کو یہ اندازہ تھا آنکھوں میں دیدار کا کاجل ڈالا تھا آنچل پہ امید کا تارہ ٹانکا تھا ہاتھوں کی بانکیں چھن چھن چھن ہنستی تھیں پیروں کی جھانجھن کو غصہ آتا تھا ہوا سکھی تھی میری، رت ہمجولی تھی ہم تینوں نے مل کر کیا کیا سوچا تھا ہر کونے ...

مزید پڑھیے

وہ جو اک شکل مرے چار طرف بکھری تھی

وہ جو اک شکل مرے چار طرف بکھری تھی میں نے جب غور سے دیکھا تو مری اپنی تھی پھر اسیروں پہ کسی خواب نے جادو ڈالا رات کچھ حلقۂ زنجیر میں خاموشی تھی یوں تو آداب محبت میں سبھی جائز تھا پھر بھی چپ رہنے میں اک شان دلآویزی تھی رات بھر جاگنے والوں نے پس شمع زرد صبح اک خواب کی صورت کی طرح ...

مزید پڑھیے

ہر حکمران آ کے بصد ناز و افتخار

ہر حکمران آ کے بصد ناز و افتخار سچی زمیں پہ کھینچتا ہے جھوٹ کا حصار منصف کے بھی گلے میں ہے اک طوق فرد جرم انصاف کس سے مانگتے ہم سے گناہ گار عالم کی گفتگو سے بھی آتی ہے بوئے خوں سودا نے اپنے شعروں میں لکھا ہے بار بار ہر مدرسے میں درس شہادت ہے سرخ رو درس حیات سارے ہوئے نذر انتشار

مزید پڑھیے

ایک تیرا غم جس کو راہ معتبر جانیں

ایک تیرا غم جس کو راہ معتبر جانیں اس سفر میں ہم کس کو اپنا ہم سفر جانیں جس سے کچھ نہ کہہ پائیں جان گفتگو ٹھہرے جس سے کم ملیں اس کو سب سے بیشتر جانیں اپنا عکس بھی اکثر ساتھ چھوڑ جاتا ہے یہ مآل خود بینی کاش شیشہ گر جانیں تار تار کر ڈالیں صبر و ضبط کا دامن زخم زخم دکھلا دیں ظرف چارہ ...

مزید پڑھیے

سنا ہے

سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے تو وہ حملہ نہیں کرتا درختوں کی گھنی چھاؤں میں جا کر لیٹ جاتا ہے ہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیں تو مینا اپنے بچے چھوڑ کر کوے کے انڈوں کو پروں سے تھام لیتی ہے سنا ہے گھونسلے سے کوئی بچہ گر پڑے تو سارا جنگل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 164 سے 5858