شاعری

تجھ میں سب منظر محفوظ

ننھے منے آنسو تیری عمر دراز تجھ میں ساری دنیا کا منظر محفوظ تو سارے لمحوں کا ساز تیرے اندر قوس قزح کے ساتوں رنگوں کے جھرنے جگمگ کرتے سورج چاند سبز سمندر دھانی موسم کی خوشبو ہاتھ پسارے کالے موسم کا جادو اور دہکتے انگاروں کے سرخ محل تو بازار، گھروں اور چوراہوں کا حاکم ممتا کی روشن ...

مزید پڑھیے

پت جھڑ کی ہوا

پھر زور دکھا پت جھڑ کی ہوا آ میرے بدن کو چوم ذرا میں اک تازہ دھانی پتہ اس موسم میں ہر اک سے جدا تنہا تنہا ایک طنز کی صورت رخشندہ اور باقی سب منظر بھورا پت جھڑ کی ہوا! پت جھڑ کی ہوا آ مجھ کو بھی خاکستر کر یا مجھ سے مل کر اب تو بھی دھانی ہو جا

مزید پڑھیے

اگر میں ہنس پڑوں

منافقوں کے درمیاں گھرا ہوا میں ایک سچ ہوں ابر میں چمکتے چاند کی طرح میرے روبرو تمام وحشیوں کے رقص ان کی برہنہ ادائیں زہر میں نہائے خنجروں کی کہکشاں سجائے مجھ کو میرے اپنے عہد سے ہی کاٹ دینے کی لگن میں اس قدر قریب ہیں اگر میں ہنس پڑوں تو سارا رقص خنجروں میں ڈوب جائے

مزید پڑھیے

دیکھ کے مجھ کو ہنس دیتا ہے

دیکھ کے مجھ کو ہنس دیتا ہے دشمن بھی کیا خوب ملا ہے شاید اس کو غم کا ڈر ہے جب دیکھو ہنستا رہتا ہے ہم نے تو ڈھالی ہے جنت تم نے بس سپنا دیکھا ہے اس کا نام کسی سے سن کر کتنے زور سے دل دھڑکا ہے آنے والا ہر پل ہم کو پربت سا اونچا لگتا ہے سب کے چہرے زرد سے کیوں ہیں پھولوں کا موسم آیا ...

مزید پڑھیے

تیری آنکھوں پہ گھنے خوابوں کا پہرہ ہوں میں

تیری آنکھوں پہ گھنے خوابوں کا پہرہ ہوں میں اس تعلق سے ہی کس درجہ سنہرا ہوں میں لوگ کیوں گھور کے سچائی مجھے دیکھتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ جیسے ترا چہرہ ہوں میں خود کو کھو دو گے مری تہہ تلک آتے آتے لفظ ہوں لفظ سمندر سے بھی گہرا ہوں میں تو ادھر خط مرا پڑھتی ہے تو لگتا ہے مجھے تیری ...

مزید پڑھیے

وہ آج مجھ سے جب ملی تو دھند چھٹ گئی

وہ آج مجھ سے جب ملی تو دھند چھٹ گئی مگر نہ جانے کیا ہوا زمیں ہی پھٹ گئی وہ لمحہ ایک چاند تھا مہکتی رات کا وہ چاند بجھ سکا نہ تھا کہ رات کٹ گئی بیاض درد جب کھلی تو دل ہنسا مگر گزشتہ عہد کی ہوا ورق الٹ گئی ہمارا ایسا دور بھی رہا کہ ہر گلی جدھر سے ہم گزر گئے سمٹ سمٹ گئی تمام خشک جسم ...

مزید پڑھیے

ابھی تک سانس لمحے بن رہی ہے

ابھی تک سانس لمحے بن رہی ہے سمندر سے پرانی دوستی ہے یہ جو آنکھوں میں اک دنیا کھڑی ہے اسی میں کچھ حقیقت رہ گئی ہے نہیں پہچانا اس نے جب سے مجھ کو زمیں کچھ اجنبی سی لگ رہی ہے ہوا مجھ سے بہت ہی بد گماں ہے مگر مجھ سے ہی لگ کر چل رہی ہے اسی کو اپنا سرمایہ سمجھ لو اگر کچھ آس باقی رہ گئی ...

مزید پڑھیے

جہاں دار جتنی بھی سازش کرے گا

جہاں دار جتنی بھی سازش کرے گا خدا ہم پہ رحمت کی بارش کرے گا یہ شیشے کی آنکھیں یہ پتھر کے چہرے مرا درد کس سے گزارش کرے گا کسی کا جو ہمدرد ہوگا زمیں پر بہت گر کرے تو سفارش کرے گا عجب چیز ہے یہ ہنر کا خزانہ نہ جس کو ملے وہ نمائش کرے گا غزل جو بھی دیکھے گا سلطانؔ صاحب کہانی کی وہ کیا ...

مزید پڑھیے

کام ہیں اور ضروری کئی کرنے کے لئے

کام ہیں اور ضروری کئی کرنے کے لئے کون بیٹھا ہے ترے عشق میں مرنے کے لئے رات گزرے ہوئے خوابوں کی ردا اوڑھے تھی صبح تعبیر کے چلمن پہ بکھرنے کے لئے ایستادہ تھے ستارے تری دہلیز کے ساتھ چاند بے چپن تھا آنگن میں اترنے کے لئے دست فن کار کی فن کاری کا عالم یہ ہو نقش بے چپن ہو پتھر پہ ...

مزید پڑھیے

دانش و فہم کا جو بوجھ سنبھالے نکلے

دانش و فہم کا جو بوجھ سنبھالے نکلے ان کے اذہان پہ افکار پہ جالے نکلے میں یہ سمجھا کہ کوئی نرم زمیں آ پہونچی غور سے دیکھا تو وہ پاؤں کے چھالے نکلے زخم کھا کر یہ تھی خوش فہمی کہ مر جائیں گے دوستو ہم تو بڑے حوصلے والے نکلے دل ٹٹولا شب تنہائی تو محسوس ہوا ہم بھی اے دوست ترے چاہنے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 142 سے 5858