شاعری

لوگ کچھ راہ محبت میں ٹھہر جائیں گے

لوگ کچھ راہ محبت میں ٹھہر جائیں گے ہم کہاں وہ ہیں جو خطرات سے ڈر جائیں گے جانتے ہی نہیں یہ زخم دئے ہیں کس نے لوگ دیتے ہیں تسلی کہ یہ بھر جائیں گے اس نے یہ کہہ کے بندھائی ہے مری ہمت دل آئے ہیں غم کے زمانے یہ گزر جائیں گے دیر سے آئیں گے وہ دل مرا کہتا ہے یہی الٹے منہ پر کئی الزام وہ ...

مزید پڑھیے

بے چین وہ رہتا ہے مرے پاس سے جا کے

بے چین وہ رہتا ہے مرے پاس سے جا کے دیکھا ہے کئی بار مجھے اس نے بھلا کے آنے سے ترے رنگ بدل دے گی تمنا الفاظ بدل جائیں گے اے دوست دعا کے یہ برق یہ گل اور چمکتے ہوئے تارے سب جلوے ہیں یہ آپ کے ہنسنے کی ادا کے میں نے بھی بتایا کہ مرا حوصلہ کیا ہے تیور تو بہت تیز تھے طوفان بلا کے ظاہر ...

مزید پڑھیے

دیکھے جو دل کی شعلہ فشانی کے حوصلے

دیکھے جو دل کی شعلہ فشانی کے حوصلے سہمے ہوئے ہیں اس کی جوانی کے حوصلے دیکھا مجھے تو پھر وہ اچانک کہاں گئے اے تیغ ناز تیری روانی کے حوصلے میں پار کر کے نکلا ہوں طوفان بحر حسن پہلو میں میرے آ گئے پانی کے حوصلے اس کی نظر کا عکس پڑا میری فکر پر اس نے بڑھائے لفظ و معانی کے ...

مزید پڑھیے

برسوں ہوئے اس سے نہ کوئی بات ہوئی رات

برسوں ہوئے اس سے نہ کوئی بات ہوئی رات تو نے بھی نہ کی اپنی کوئی جادوگری رات گم ہو گئی امید ملاقات سحر میں یہ تو نے مرے ساتھ عجب چال چلی رات وہ لے گیا ساتھ اپنے اجالے مرے دل کے کاٹے نہ کٹی ہم سے جو تھی درد بھری رات اشکوں سے کہا میں نے جدائی کا فسانہ اس پر یہ کہا اس نے کہ آئے گی نئی ...

مزید پڑھیے

جذبوں سے فروزاں ہیں دہکتے ہوئے رخسار

جذبوں سے فروزاں ہیں دہکتے ہوئے رخسار کیا حشر بداماں ہیں دہکتے ہوئے رخسار روشن ہے اجل اور ابد ان کی ضیا سے یہ رحمت یزداں ہیں دہکتے ہوئے رخسار بڑھنے لگی کچھ اور وہاں آتش جذبات دل میں میرے مہماں ہیں دہکتے ہوئے رخسار کر دی ہے لب و چشم نے تصدیق ہماری حسن رخ جاناں ہیں دہکتے ہوئے ...

مزید پڑھیے

نیا حکم نامہ

تغیر کا سیلاب آیا تو زنجیریں ساری اٹھا لے گیا شہنشاہیت کا سنہرا سمندر ہوا لے گئی اور سب کی نظر ایک کالے عمامے کی جانب پر امید ہو کر اٹھی سنا تھا کہ کالے عمامہ کے اندر نئے موسموں کے طلسمات خانوں کی سب کنجیاں ہیں مگر اس عمامہ کے اندر نیا حکم نامہ بہت خوبصورت سے خنجر سے لپٹا ہوا سو ...

مزید پڑھیے

سفید گھوڑے پر سوار اجنبی

مرے مکاں کے سامنے وہ جوں ہی آیا یک بیک کوئی برق زن زناتی آنکھ میں اتر گئی لہو میں جیسے ان گنت کبوتروں کی پھڑپھڑاہٹوں نے سب رگوں کے تار جھنجھنا دیے تمام کھڑکیوں کے پٹ ''کھٹاک'' سے بدن نے بند کر لیے مگر سفید گھوڑے پر سوار اجنبی کی آنکھ میرے گرد و پیش ایستادہ جسموں کی فصیل توڑ کر مرے ...

مزید پڑھیے

لہو رنگ سیال روشن بھنور

چٹانوں کے اندر بہت ساری پرتوں کے قلعوں فصیلوں کی تسخیر کرتی مری آنکھ جب اور آگے بڑھی تو وہاں آگ کے اک گرجتے سمندر سے لگ کر بہت ہی منور بہت خوبصورت سی دنیا کھڑی تھی ہزاروں چمکتے ہوئے رنگ کے ان گنت پتھروں نے مری آنکھ کا خیر مقدم کیا دھوئیں اور کہرے کی پرچھائیوں سے پرے آتش سنگ بے ...

مزید پڑھیے

تیری یاد میں روتے روتے تجھ جیسا ہو جائے گا

تیری یاد میں روتے روتے تجھ جیسا ہو جائے گا ہو سکتا ہے اپنا دل بھی کل پتھر کہلائے گا اور نہیں تو ترک وفا پر یہ بھی تو ہو سکتا ہے کچھ ہم بھی شرمندہ ہوں گے کچھ وہ بھی پچھتائے گا تجھ کو بھلا کر جی سکتے ہیں لیکن اتنا یاد رہے تجھ سا جو بھی مکھڑا ہوگا آنکھوں میں بس جائے گا پیار سے نفرت ...

مزید پڑھیے

کوئی بھی بات نہ تھی واردات سے پہلے

کوئی بھی بات نہ تھی واردات سے پہلے مری ہی ذات تھی اس کائنات سے پہلے کچھ اتنا ظلم ہوا ہے کہ مجھ کو لگتا ہے کوئی بھی رات نہ گزری تھی رات سے پہلے اگر وہ چھوٹ گیا بات یہ نئی تو نہیں ملے تھے ہات بہت اس کے ہات سے پہلے ہوئے نہیں تھے کبھی اتنے آبرو والے کسی کے ساتھ نہ تھے اس کے سات سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 141 سے 5858