لوگ کچھ راہ محبت میں ٹھہر جائیں گے
لوگ کچھ راہ محبت میں ٹھہر جائیں گے ہم کہاں وہ ہیں جو خطرات سے ڈر جائیں گے جانتے ہی نہیں یہ زخم دئے ہیں کس نے لوگ دیتے ہیں تسلی کہ یہ بھر جائیں گے اس نے یہ کہہ کے بندھائی ہے مری ہمت دل آئے ہیں غم کے زمانے یہ گزر جائیں گے دیر سے آئیں گے وہ دل مرا کہتا ہے یہی الٹے منہ پر کئی الزام وہ ...