شاعری

مکر و ریا

حالیؔ رہ راست جو کہ چلتے ہیں سدا خطرہ انہیں گرگ کا نہ ڈر شیروں کا لیکن ان بھیڑیوں سے واجب ہے حذر بھیڑوں کے لباس میں ہیں جو جلوہ نما

مزید پڑھیے

انقلاب روزگار

بس بس کے ہزاروں گھر اجڑ جاتے ہیں گڑ گڑ کے علم لاکھوں اکھڑ جاتے ہیں آج اس کی ہے نوبت تو کل اس کی باری بن بن کے یونہی کھیل بگڑ جاتے ہیں

مزید پڑھیے

نعت

زہاد کو تو نے محو تمجید کیا عشاق کو مست لذت دید کیا طاعت میں رہا نہ حق کی ساجھی کوئی توحید کو تو نے آ کے توحید کیا

مزید پڑھیے

توحید

کانٹا ہے ہر اک جگر میں اٹکا تیرا حلقہ ہے ہر اک گوش میں لٹکا تیرا مانا نہیں جس نے تجھ کو جانا ہے ضرور بھٹکے ہوئے دل میں بھی ہے کھٹکا تیرا

مزید پڑھیے

آثار زوال

آبا کو زمین و ملک پر اطمینان اولاد کو سستی یہ قناعت کا گمان بچے آوارہ اور بے کار جوان ہیں ایسے گھرانے کوئی دن کے مہمان

مزید پڑھیے

وقت کی مساعدت

اے وقت بگاڑ کا ہے سب کے چارہ پر تجھ سے بگڑنے کا نہیں ہے یارا ہو جائے گر ایک تو ہمارا ساتھی پھر غم نہیں پھر جائے زمانہ سارا

مزید پڑھیے

سختی کا جواب نرمی ہے

فتنہ کو جہاں تلک ہو دیجے تسکیں زہر اگلے کوئی تو کیجے باتیں شیریں غصہ غصے کو اور بھڑکاتا ہے اس عارضہ کا علاج بالمثل نہیں

مزید پڑھیے

گدائی کی ترغیب

اک مرد توانا کو جو سائل پایا کی میں نے ملامت اور بہت شرمایا بولا کہ ہے اس کا ان کی گردن پہ وبال دے دے کے جنہوں نے مانگنا سکھلایا

مزید پڑھیے

عشق

اے عشق کیا تو نے گھرانوں کو تباہ پیروں کو خرف اور جوانوں کو تباہ دیکھا ہے سدا سلامتی میں تیری قوموں کو ذلیل خاندانوں کو تباہ

مزید پڑھیے
صفحہ 84 سے 100