شاعری

طویل خامشی

باتوں کا مرتبان اچانک چھوٹ گیا ہے ہاتھوں سے باتوں کے نازک جسم اب لفظوں کی کرچوں سے زخمی ہے اور لہولہان بے بس سے ہیں خیال اور معنی بھی اچھل کر دور پڑے ہیں کونے میں روتے سے بلکھتے سے سارے احساس پڑے ہے فرش پے مر کر بھار پونچھ کر سمیٹ لوں پھر بھی چکھتے تو نہ مٹیں گے

مزید پڑھیے

کاشی

گنگا کی چھاتی پر سر رکھ کر نئی کچھ دیر جکڑے بنارس کے بوڑھے ناخونوں اور جھریوں نے چپچپاتی چمڑی والے ہاتھوں کو چھو کر یوں لگا کہ تم وحی ہو جو میں ہوں اور یہ میری جگہ ہے میں ہوں منیکرنیکا اور تم میرے کاشی یے جو گنگا ہے نا اسی میں بہتے بہتے ہم ایک کنارے ملے تھے کبھی اور ہمیشہ کے لیے ...

مزید پڑھیے

چوڑیاں

جانتے ہو تم مجھے چوڑیاں پسند ہیں لال نیلی ہری پیلی ہر رنگ کی چوڑیاں جہاں بھی دیکھتی ہوں چوڑیوں سے بھری ریڑی جی چاہتا ہے تم ساری خرید دو مجھے مگر تم نہیں ہوتے نا میرے ساتھ نا میرے پاس خود ہی خرید لیتی ہوں نام سے تمہارے پہنتی ہوں چھنکاتی ہوں انہیں بہت اچھی لگتی ہے ہاتھوں میں ...

مزید پڑھیے

دعا

میں نظمیں نہیں کہتی میں دعائیں لکھتی ہوں درد کی کرچیں چنتی ہوں تیرے پیروں کی انگلیاں سہلاتی ہوں ماتھے سے بھوں کے بیچ ایک چاند تیرے نام کرتی ہوں ہونٹھوں پے اٹکے کانچ کے ٹکڑے چوم کر خواہش کہتی ہوں تیرے بائیں حصے پے ہاتھ رکھ کر کچھ سنسناہٹ اپنی نسوں میں بھرتی ہوں اور انگلی سے آسمان ...

مزید پڑھیے

محبت کا گھر

یاد رہے چاہتوں کا یہ شہر خوابوں کا محلہ عشق کی گلی اور کچا مکاں محبت کا جو ہمارا ہے خوشبوؤں کی دیواریں ہیں جہاں احساسات کی چھتیں ہنسی اور آنسوؤں سے لپا پتا آنگن ہے ہرا بھرا گہری چھانو والا پیار کا ایک پیڑ ہے جہاں قصوں کے چوکے میں باتوں کے کچھ برتن اوندھے ہیں شرمیلے سے تو کچھ ...

مزید پڑھیے

آواز

تمہاری زباں سے گرا ایک شوخ لفظ بارش یوں لگا کہ مجھے چھو گیا ہو جیسے کھڑکی کے باہر بوندوں کی ٹپٹپاہٹ کانوں سے ہوتی ہوئی دھڑکن تک آ پہونچی ایک سنگیت ایک راگ تھا دونوں میں پتوں پر پانی کی بوندیں یوں لگی مانو تم نے چمکتی سی کچھ خواہشیں رکھی ہوں گیلی گیلی یادوں کی کچھ پھوہاریں سفید ...

مزید پڑھیے

کبھی تو نے یہ سوچا ہے

کبھی تو نے یہ سوچا ہے کہ تیرے لفظ سن لوں تو مرے دل میں ہزاروں پھول کھلتے ہیں مرے کانوں کی شنوائی خیالوں میں حسیں پیکر بناتی ہے یہ تیری صندلی آواز میری سانس کی کوکو بڑھاتی ہے کبھی تو نے یہ سوچا ہے بھلا کب تک نبھاؤں گی مگر تو یاد رکھنا ایک دن میں لوٹ آؤں گی

مزید پڑھیے

ایک اجنبی چہرہ

وہی اک اجنبی چہرہ مرے خوابوں میں آتا ہے اداسی دیکھتی ہوں جب بھی اس کی گہری آنکھوں میں چرا لیتا ہے یہ منظر مری ہر نیند کا لمحہ اداسی اس کے چہرے کی مجھے سونے نہیں دیتی مجھے احساس ہوتا ہے کہ اس کی گرم سانسیں بھی مجھے سونے نہیں دیتیں مجھے جینے نہیں دیتیں مجھے احساس ہوتا ہے وہی ایک ...

مزید پڑھیے

خودکشی

کل میری لکھی اک نظم نے خودکشی کر لی جسے عرصے پہلے میں نے لکھا تھا نہ جانے کیوں شاید ناراض تھی مجھ سے کئی عرصے سے قید تھی ڈایری کے صفحوں میں کہیں گمنام سی ہو چکی تھی وہ مجھے بھی اس بات کا غم ہے میں نے اس کا خیال کیوں نہیں کیا کئی مرتبہ سوچتا تو تھا ذکر بھی کرتا تھا اپنوں سے پھر اگلی ...

مزید پڑھیے

وہ بے جان شجر

آج سویرے آفتاب آنے کے بعد مجھے میرے کل کے پہنے پینٹ کی جیب پر اک خون سے لت پت رومال ملا ساتھ ملی کچھ سوکھی ہوئی نظمیں جو کل شب میں نے لکھی تھی ان سوکھی نظموں کو تکیے تلے رکھ کر میں نے کل کا واقعہ یاد کیا کچھ دھندھلی سی تھی اس واقعے کی تصویر میرے ذہن پر یا یوں کہوں میں اس واقعے کو صاف ...

مزید پڑھیے
صفحہ 80 سے 960