شاعری

نوجوان خاتون سے

حجاب فتنہ پرور اب اٹھا لیتی تو اچھا تھا خود اپنے حسن کو پردا بنا لیتی تو اچھا تھا تری نیچی نظر خود تیری عصمت کی محافظ ہے تو اس نشتر کی تیزی آزما لیتی تو اچھا تھا تری چین جبیں خود اک سزا قانون فطرت میں اسی شمشیر سے کار سزا لیتی تو اچھا تھا یہ تیرا زرد رخ یہ خشک لب یہ وہم یہ وحشت تو ...

مزید پڑھیے

ساقی

مری مستی میں بھی اب ہوش ہی کا طور ہے ساقی ترے ساغر میں یہ صہبا نہیں کچھ اور ہے ساقی بھڑکتی جا رہی ہے دم بدم اک آگ سی دل میں یہ کیسے جام ہیں ساقی یہ کیسا دور ہے ساقی وہ شے دے جس سے نیند آ جائے عقل فتنہ پرور کو کہ دل آزردۂ تمییز لطف‌‌ و جور ہے ساقی کہیں اک رند اور واماندۂ افکار ...

مزید پڑھیے

خانہ بدوش

بستی سے تھوڑی دور چٹانوں کے درمیاں ٹھہرا ہوا ہے خانہ بدوشوں کا کارواں ان کی کہیں زمین نہ ان کا کہیں مکاں پھرتے ہیں یوں ہی شام و سحر زیر آسماں دھوپ اور ابر و بار کے مارے ہوئے غریب یہ لوگ وہ ہیں جن کو غلامی نہیں نصیب اس کارواں میں طفل بھی ہیں نوجواں بھی ہیں بوڑھے بھی ہیں مریض بھی ...

مزید پڑھیے

لکھنؤ

فردوس حسن و عشق ہے دامان لکھنؤ آنکھوں میں بس رہے ہیں غزالان لکھنؤ صبر آزما ہے غمزۂ ترکان لکھنؤ رشک زنان مصر کنیزان لکھنؤ ہر سمت اک ہجوم نگاران لکھنؤ اور میں کہ ایک شوخ غزل خوان لکھنؤ مطرب بھی ہے شراب بھی ابر بہار بھی شیراز بن گیا ہے شبستان لکھنؤ تولے ہوئے ہے تیغ و سناں حس بے ...

مزید پڑھیے

مزدوروں کا گیت

محنت سے یہ مانا چور ہیں ہم آرام سے کوسوں دور ہیں ہم پر لڑنے پر مجبور ہیں ہم مزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم گو آفت و غم کے مارے ہیں ہم خاک نہیں ہیں تارے ہیں اس جگ کے راج دلارے ہیں مزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم بننے کی تمنا رکھتے ہیں مٹنے کا کلیجہ رکھتے ہیں سرکش ہیں سر اونچا رکھتے ہیں مزدور ...

مزید پڑھیے

کس سے محبت ہے

بتاؤں کیا تجھے اے ہم نشیں کس سے محبت ہے میں جس دنیا میں رہتا ہوں وہ اس دنیا کی عورت ہے سراپا رنگ و بو ہے پیکر حسن و لطافت ہے بہشت گوش ہوتی ہیں گہر افشانیاں اس کی وہ میرے آسماں پر اختر صبح قیامت ہے ثریا بخت ہے زہرہ جبیں ہے ماہ طلعت ہے مرا ایماں ہے میری زندگی ہے میری جنت ہے میری ...

مزید پڑھیے

خواب سحر

مہر صدیوں سے چمکتا ہی رہا افلاک پر رات ہی طاری رہی انسان کے ادراک پر عقل کے میدان میں ظلمت کا ڈیرا ہی رہا دل میں تاریکی دماغوں میں اندھیرا ہی رہا اک نہ اک مذہب کی سعیٔ خام بھی ہوتی رہی اہل دل پر بارش الہام بھی ہوتی رہی آسمانوں سے فرشتے بھی اترتے ہی رہے نیک بندے بھی خدا کا کام کرتے ...

مزید پڑھیے

اندھیری رات کا مسافر

جوانی کی اندھیری رات ہے ظلمت کا طوفاں ہے مری راہوں سے نور ماہ و انجم تک گریزاں ہے خدا سویا ہوا ہے اہرمن محشر بداماں ہے مگر میں اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہی جاتا ہوں غم و حرماں کی یورش ہے مصائب کی گھٹائیں ہیں جنوں کی فتنہ خیزی حسن کی خونیں ادائیں ہیں بڑی پر زور آندھی ہے بڑی کافر ...

مزید پڑھیے

رات اور ریل

پھر چلی ہے ریل اسٹیشن سے لہراتی ہوئی نیم شب کی خامشی میں زیر لب گاتی ہوئی ڈگمگاتی جھومتی سیٹی بجاتی کھیلتی وادی و کہسار کی ٹھنڈی ہوا کھاتی ہوئی تیز جھونکوں میں وہ چھم چھم کا سرود دل نشیں آندھیوں میں مینہ برسنے کی صدا آتی ہوئی جیسے موجوں کا ترنم جیسے جل پریوں کے گیت ایک اک لے میں ...

مزید پڑھیے

مسافر

مسافر یوں ہی گیت گائے چلا جا سر رہ گزر کچھ سنائے چلا جا تری زندگی سوز و ساز محبت ہنسائے چلا جا رلائے چلا جا ترے زمزمے ہیں خنک بھی تپاں بھی لگائے چلا جا بجھائے چلا جا کوئی لاکھ روکے کوئی لاکھ ٹوکے قدم اپنے آگے بڑھائے چلا جا حسیں بھی تجھے راستے میں ملیں گے نظر مت ملا مسکرائے چلا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 775 سے 960