بہ جواب پند نامہ
پیر جوش شباب کیا جانے شورش اضطراب کیا جانے سینۂ انقلاب چھلنی ہے شاعر انقلاب کیا جانے
پیر جوش شباب کیا جانے شورش اضطراب کیا جانے سینۂ انقلاب چھلنی ہے شاعر انقلاب کیا جانے
اے جوانان وطن روح جواں ہے تو اٹھو آنکھ اس محشر نو کی نگراں ہے تو اٹھو خوف بے حرمتی و فکر زیاں ہے تو اٹھو پاس ناموس نگاران جہاں ہے تو اٹھو اٹھو نقارۂ افلاک بجا دو اٹھ کر ایک سوئے ہوئے عالم کو جگا دو اٹھ کر ایک اک سمت سے شبخون کی تیاری ہے لطف کا وعدہ ہے اور مشق جفا کاری ہے محفل زیست پہ ...
اس نے جب کہا مجھ سے گیت اک سنا دو نا سرد ہے فضا دل کی آگ تم لگا دو نا کیا حسین تیور تھے کیا لطیف لہجہ تھا آرزو تھی حسرت تھی حکم تھا تقاضا تھا گنگنا کے مستی میں ساز لے لیا میں نے چھیڑ ہی دیا آخر نغمۂ و فا میں نے یاس کا دھواں اٹھا ہر نوائے خستہ سے آہ کی صدا نکلی بربط شکستہ سے
اک مجمع رنگیں میں وہ گھبرائی ہوئی سی بیٹھی ہے عجب ناز سے شرمائی ہوئی سی آنکھوں میں حیا لب پہ ہنسی آئی ہوئی سی ہونٹوں پہ فدا روح بہار و گل و نسریں آنکھوں کی چمک رو کش بزم مہ و پرویں پیراہن زر تار میں اک پیکر سیمیں لہریں سی وہ لیتا ہوا اک پھول کا سہرا سہرے میں جھمکتا ہوا اک چاند سا ...
میں کہ مے خانۂ الفت کا پرانا مے خوار محفل حسن کا اک مطرب شیریں گفتار ماہ پاروں کا ہدف زہرہ جبینوں کا شکار نغمہ پیرا و نواسنج و غزل خواں ہوں میں کتنے دلکش مرے بت خانۂ ایماں کے صنم وہ کلیساؤں کے آہو وہ غزالان حرم میں ہمہ شوق و محبت وہ ہمہ لطف و کرم مرکز مرحمت محفل خوباں ہوں ...
جلال آتش و برق و سحاب پیدا کر اجل بھی کانپ اٹھے وہ شباب پیدا کر ترے خرام میں ہے زلزلوں کا راز نہاں ہر ایک گام پر اک انقلاب پیدا کر صدائے تیشۂ مزدور ہے ترا نغمہ تو سنگ و خشت سے چنگ و رباب پیدا کر بہت لطیف ہے اے دوست تیغ کا بوسہ یہی ہے جان جہاں اس میں آب پیدا کر ترے قدم پہ نظر آئے محفل ...
اپنے دل کو دونوں عالم سے اٹھا سکتا ہوں میں کیا سمجھتی ہو کہ تم کو بھی بھلا سکتا ہوں میں کون تم سے چھین سکتا ہے مجھے کیا وہم ہے خود زلیخا سے بھی تو دامن بچا سکتا ہوں میں دل میں تم پیدا کرو پہلے مری سی جرأتیں اور پھر دیکھو کہ تم کو کیا بنا سکتا ہوں میں دفن کر سکتا ہوں سینے میں تمہارے ...
اب مرے پاس تم آئی ہو تو کیا آئی ہو میں نے مانا کہ تم اک پیکر رعنائی ہو چمن دہر میں روح چمن آرائی ہو طلعت مہر ہو فردوس کی برنائی ہو بنت مہتاب ہو گردوں سے اتر آئی ہو مجھ سے ملنے میں اب اندیشۂ رسوائی ہے میں نے خود اپنے کیے کی یہ سزا پائی ہے خاک میں آہ ملائی ہے جوانی میں نے شعلہ زاروں ...
آج کی رات اور باقی ہے کل تو جانا ہی ہے سفر پہ مجھے زندگی منتظر ہے منہ پھاڑے زندگی خاک و خون میں لتھڑی آنکھ میں شعلہ ہائے تند لیے دو گھڑی خود کو شادماں کر لیں آج کی رات اور باقی ہے چلنے ہی کو ہے اک سموم ابھی رقص فرما ہے روح بربادی بربریت کے کاروانوں سے زلزلے میں ہے سینۂ گیتی ذوق ...
میں آہیں بھر نہیں سکتا کہ نغمے گا نہیں سکتا سکوں لیکن مرے دل کو میسر آ نہیں سکتا کوئی نغمے تو کیا اب مجھ سے میرا ساز بھی لے لے جو گانا چاہتا ہوں آہ وہ میں گا نہیں سکتا متاع سوز و ساز زندگی پیمانہ و بربط میں خود کو ان کھلونوں سے بھی اب بہلا نہیں سکتا وہ بادل سر پہ چھائے ہیں کہ سر سے ...